لبنان میں اسرائیلی حملے، یورپی یونین کی جانب سے مذمت

حملوں کا مقصد "لبنان کو غیر مستحکم کرنا اور فوج کی تعیناتی روکنا" ہے: لبنانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کا احترام کیا جائے۔

اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں تازہ حملے کیے جن کے بارے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا اور گروپ کے دوبارہ مسلح ہونے کا الزام لگایا گیا۔

یورپی یونین کے ترجمان برائے خارجہ امور انوار الانونی نے کہا، "یورپی یونین اسرائیل سے ایسے تمام اقدامات بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے جو قرارداد 1701 کی اور ایک سال قبل نومبر 2024 میں طے کردہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کریں"۔

انہوں نے مزید کہا، "اس کے ساتھ ہم تمام لبنانی عناصر اور خصوصاً حزب اللہ پر کسی بھی ایسے اقدام یا ردِعمل سے گریز کرنے پر زور دیتے ہیں جو صورتِ حال کو مزید کشیدہ کرنے کا باعث بنیں۔ تمام فریقوں کی توجہ جنگ بندی کے تحفظ اور اب تک کی پیشرفت پر ہونی چاہیے۔"

اسرائیلی فوج نے قبل ازیں چار دیہات کے مکینوں کو عمارات خالی کرنے کو کہا اور خبردار کیا تھا کہ اس کا حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔

جمعرات کے حملوں کی بنا پر لبنانی فوج نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ "لبنان کے استحکام کو نقصان پہنچانے" اور جنگ بندی کے مطابق "فوج کی تعیناتی مکمل ہونے سے روکنے" کی کوشش کر رہا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ایران نے بھی جمعہ کو انہیں "وحشیانہ" حملے قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی۔

لبنان اور اسرائیل تکنیکی طور پر تاحال حالتِ جنگ میں ہیں لیکن اسرائیل کے ساتھ حالیہ تمام مسلح تنازعات میں جنگ حزب اللہ نے لڑی، لبنانی فوج نے نہیں۔

حزب اللہ نے لبنانی حکومت کے احکامات کے مطابق غیر مسلح ہونے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں