ایک سال سے بھی کم عرصے میں دس لاکھ سعودی شہریوں نے مصنوعی ذہانت کی سند حاصل کر لی

خواتین کی شمولیت 52 فیصد ، تیس فی صد شرکاء طلبا پر مشتمل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں "سُمائی" (SMAI) نامی قومی اقدام نے ریکارڈ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک سال سے بھی کم عرصے میں دس لاکھ مرد و خواتین کو مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت دے کر انہیں سند یافتہ بنا دیا۔ اس پروگرام میں ٹریننگ کا دورانیہ اوسطاً چار ماہ رہا۔

یہ اقدام ملک بھر کے مختلف علاقوں میں بھرپور توجہ کا مرکز بنا، جہاں رجسٹرڈ شرکاء کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ان میں 52 فیصد خواتین اور 48 فیصد مرد شامل ہیں، جب کہ تقریباً 70 فیصد شرکاء ملازمت پیشہ افراد تھے۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نمایاں شرکت

رپورٹ کے مطابق "سُمائی" میں شریک طلبہ کا تناسب 30 فیصد رہا۔ یہ پروگرام دراصل ایک قومی منصوبہ ہے جس کا مقصد سعودی شہریوں کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مہارت دلانا، اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو فروغ دینا اور جدید تکنیکی وسائل سے بہترین فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں تیار کرنا ہے۔ اس دوران اخلاقی معیارات اور محفوظ استعمال پر بھی خاص زور دیا گیا۔

بین الاقوامی شراکت اور جامع نصاب

"سُمائی" کے تربیتی مواد کو عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے اشتراک سے تیار کیا گیا تاکہ مختلف عمر اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے جدید اور جامع نصاب فراہم کیا جا سکے۔

یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد ایک مستحکم ڈیجیٹل معیشت کی تشکیل ہے جو قومی صلاحیتوں اور علم پر مبنی ترقی کو آگے بڑھائے۔

سرکاری خبر رساں ادارے "ایس پی اے" کے مطابق "سُمائی" مصنوعی ذہانت کی تربیت کے میدان میں سعودی عرب کا ایک مضبوط بازو بن چکی ہے جو شہریوں کو اس ٹیکنالوجی کو روزمرہ زندگی اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں مؤثر انداز سے استعمال کرنے کے لیے تیار کر رہی ہے، تاکہ اختراع، علم پر مبنی معیشت اور جدید ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تقویت دی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں