جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک … نئے تصادم کے خدشات بڑھ گئے
لبنان نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی تیاری ایک بار پھر ظاہر کی تاکہ اس کی فضائی کارروائیاں بند کی جا سکیں
پیر کی صبح جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ یہ بات لبنان کی وزارت صحت نے بتائی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تقریباً ایک سال سے جاری جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئے تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اس ہفتے لبنان نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ اُس کی فضائی کارروائیاں بند کی جا سکیں۔ یہ کارروائیاں جمعرات کے روز اپنے عروج پر پہنچ گئیں جب جنوبی لبنان میں ان عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ اُنھیں اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی کے لیے بنیادی ڈھانچے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
وزارتِ صحت نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ صیدا کے علاقے بیساریہ میں ایک گاڑی پر فضائی حملے کے نتیجے میں ایک شہری مارا گیا۔ امدادی کارکنوں کو جلی ہوئی گاڑی سے لاش کے اعضا جمع کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ گاڑی کے ٹکڑے مرکزی سڑک پر بکھرے ہوئے تھے اور وہاں ٹریفک جام ہوگیا تھا۔
ایک روز قبل بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو افراد مارے گئے تھے، جب کہ ہفتے کے روز تین افراد اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے دو پر اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے لیے اسلحہ اسمگل کرنے کا الزام لگایا تھا۔
غارة من مسيرة على طريق البيسرية جنوب لبنان.. الغارة استهدفت سيارة وأحرقتها بالكامل#لبنان #إسرائيل#الحدث pic.twitter.com/XnIF00BDcD
— ا لـحـدث (@AlHadath) November 10, 2025
جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہونے کے قریب ہے، جس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال طویل جنگ کو ختم کیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے اب بھی جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نے سرحدی علاقوں میں اپنی افواج کی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ لبنان مطالبہ کر رہا ہے کہ اسرائیل اِن پانچ سرحدی مقامات سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔
گزشتہ جمعرات کو حزب اللہ نے لبنانی عوام اور حکام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ کسی “سیاسی مذاکرات” میں گھسیٹا نہیں جانا چاہیے۔
اسی دن لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ "مذاکرات ہی اسرائیلی جارحیت روکنے کا ممکنہ ذریعہ ہیں"۔
لبنان کا الزام ہے کہ اسرائیل ... امریکہ اور فرانس کی ثالثی سے نومبر میں طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے ... مسلسل فضائی حملوں اور اپنی افواج کو لبنانی سرزمین پر برقرار رکھنے کے ذریعے۔
اسرائیل کے مطابق حزب اللہ اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوب سے پیچھے ہٹنا، وہاں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنا اور لبنان میں اسلحہ صرف سرکاری اداروں تک محدود رکھنا تھا۔
اس کے بدلے میں اسرائیل کو اُن علاقوں سے انخلا کرنا تھا جن پر اُس نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔
مزید برآں امریکی دباؤ پر لبنانی حکومت نے اگست میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا۔
لبنانی فوج نے اسلحہ واپس لینے کے لیے پانچ مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کیا، تاہم حزب اللہ نے اس فیصلے کو "سنگین غلطی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
-
لبنان میں اسرائیلی حملے، یورپی یونین کی جانب سے مذمت
حملوں کا مقصد "لبنان کو غیر مستحکم کرنا اور فوج کی تعیناتی روکنا" ہے: لبنانی ...
مشرق وسطی -
لبنانی فوج کی حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی ناکافی ہے: اسرائیل
اسرائیلی رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے حالیہ ہفتوں میں سینکڑوں میزائل لبنان منتقل کر ...
مشرق وسطی -
جنوبی لبنان میں پھر اسرائیلی حملہ، دو لبنانی مارے گئے
اسرائیلی ڈرون نے ضلع مرجعیون میں پک اپ ٹرک کو 3 میزائلوں سے نشانہ بنایا
مشرق وسطی