لبنانی حکومت اسرائیل کو رعایت دے رہی: جنرل سیکرٹری حزب اللہ

اگر لبنانی حکومت نے رعایتوں کی راہ اختیار کی تو یہ غلطی ہوگی: نعیم قاسم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور امریکی ایلچی ٹام براک کے کاغذ کی شرائط کو منظور کرنا ایک رعایت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر لبنانی حکومت نے رعایت کے راستے پر عمل کیا تو وہ غلطی کرے گی۔

نعیم قاسم نے ایک پارٹی تقریب کے دوران کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود لیطانی کے جنوب میں فوج کی تعیناتی اسرائیل کے لیے ایک رعایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اس ملک میں ایک شراکت دار ہے۔ اس کی بات سنی جاتی ہے اور ہمارے ساتھ لبنانی عوام اور سیاسی قوتوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی اسرائیل کو لبنان میں اپنی مرضی کے مطابق گڑبڑ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے حزب اللہ اس پر قابو پانے کے لیے ایک "واضح ابتدائی جارحیت" ہے، انہوں نے بینک آف لبنان کے گورنر کو مشورہ دیا کہ وہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے والے مالی اقدامات کو روک دیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ لبنانیوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے اور یہ ان کی زندگیوں کے لیے ایک بہت بڑی آفت ہے۔ انہوں نے کہا "لبنان پر امریکی سرپرستی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔"

انہوں نے پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری پر حملے کو "گناہ" قرار دیا اور یہ سمجھا کہ غیر ملکی سرپرستی کو بلا کر قابو پانے میں آسانی پیدا کرنے کے علاوہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ بات لبنانی وزیراعظم نواف سلام کی جانب سے گزشتہ ہفتے اس بات کی ضرورت پر زور دینے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ہتھیاروں کی اجارہ داری صرف ریاست کے ہاتھ میں ہو۔

نواف سلام نے "لبنان ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمٹ" کے دوران ایک ڈائیلاگ سیشن میں کہا کہ ملک پر مکمل اسرائیلی انخلاء اور جارحیت کو روکنے کے لیے عرب اور بین الاقوامی سیاسی حمایت موجود ہے۔ لبنانی ریاست نے جنگ اور امن کے فیصلے کی اجارہ داری دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ نواف کا یہ بیان حزب اللہ کی جانب سے لبنان کے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو مسترد کرنے کے اعلان کا رد عمل تھا۔

اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات

حزب اللہ نے صدر جوزف عون، وزیراعظم نواف سلام اور سپیکر نبیہ بری کو بھی ایک کھلا خط بھیجا تھا جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ حزب اللہ نے کہا کہ لبنان کو فی الحال اسرائیل کے ساتھ بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ جارحیت کو روکنے میں دلچسپی ہے۔

پارٹی کا موقف اس وقت سامنے آیا جب جوزف عون نے ایک سے زیادہ بار ملک کے زیر التواء مسائل کو حل کرنے کے لیے اسرائیلی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اسرائیل نے بات چیت کی دعوتوں کا جواب لبنانی جنوب پر اپنی کارروائیوں کو بڑھا کر دیا ہے۔ یاد رہے امریکی ایلچی ٹام براک نے لبنان پر اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے پر زور دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں