فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع میں سعودی عرب کا دوٹوک موقف گراں قدر ہے : محمود عباس
فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی عرب کے ساتھ رابطہ کاری کے خواہاں ہیں
فلسطینی صدر محمود عباس نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اُس موقف کو نہایت گراں قدر قرار دیا ہے جس کی انھوں نے گزشتہ روز واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران دوبارہ توثیق کی۔
عباس نے سعودی عرب کے جرات مندانہ اور واضح موقف کو سراہا، جو ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع میں ثابت قدمی، استقامت اور مستقل مزاجی کی علامت رہا ہے۔ یہ فلسطینی قانونی و قومی حق کے تحفظ کے لیے سعودی عزم کو مضبوطی سے ظاہر کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی صدر محمود عباس نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کی اُن کوششوں کی تعریف کی جن کا مقصد دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس لیے کہ یہی حل منصفانہ امن کے قیام کا بنیادی راستہ ہے، جو فلسطینی عوام کے مستقبل، ان کے تاریخی حقوق اور مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ریاست اپنی مکمل ہم آہنگی، قریبی رابطے اور مسلسل مشاورت کو سعودی عرب کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ مشرقی بیت المقدس کو دار الحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کے قیام کے ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
-
سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت ہماری دفاعی صنعتی بنیاد مضبوط کرتی ہے:امریکی سینیٹر
امریکی کانگریس کی مسلح افواج کمیٹی کے رکن ریپبلکن سینیٹر کیون کریمر نے "العربیہ" ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب اور امریکہ کے بیچ تزویراتی شراکت میں مصنوعی ذہانت، دفاع اور ایٹمی توانائی شامل
سعودی ولی عہد اور امریکی صدر نے تزویراتی دفاع کے معاہدے پر دستخط کیے
مشرق وسطی -
امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے سعودی عرب کو ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی حمایت
سعودی عرب نے بھی امریکہ میں سرمایہ کاری ایک ٹریلین ڈالر کر دی
مشرق وسطی