دو سال بعد کارروائی : 7 اکتوبر کے حملے نہ روک سکنے پر کئی اسرائیلی فوجی حکام برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمت کاروں کا حملہ روکنے میں نااہلی دکھانے پر کئی فوجی حکام کو برطرف کردیا ہے۔ جبکہ کئی فوجی عہدے داروں کو اس موقع پر انتباہ بھی کیا ہے۔

مغربی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے کئی فوجی کمانڈروں کو برطرف کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کیا ہے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ برطرفی 7 اکتوبر 2023 کا حملہ روکنے میں بری طرح ناکام رہنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ

متعدد فوجی افسروں کو بتایا گیا کہ انہیں ریزرو ڈیوٹی سے الگ کر دیا کر دیا جائے گا اور وہ آئندہ فوج میں خدمات انجام نہیں دے سکیں گے۔ جبکہ ان کے علاوہ کئی فوجی حکام کو باضابطہ سرزنش کی گئی ہے۔ کہ انہوں نے سات اکتوبر کا فلسطینی حملہ روکنے میں اپنی اہلیت کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے ک ایک کو بتایا گیا کہ ان کی فوجی ملازمت اب جاری نہیں رہے گی۔ اسرائیلی فوج کے ان ناکامی کے ذمہ داروں میں شامل ایک فوجی افسر نے خود ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔

جن اسرائیلی فوجی حکام کو آئندہ فوج میں ریزرو ڈیوٹی دینے سے معزول کیا گیا ہے ان میں انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور آپریشنز ڈائریکٹوریٹ اور اسرائیلی جنوبی کمانڈ کے سابق سربراہان شامل ہیں۔

آرمی چیف ایال زمیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج 7 اکتوبر کو اپنے عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی جو اس فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ ایک سنگین اور افسوسناک ناکامی ہے جو ہمیں اپنے فوجی نظام میں دیکھنے کو ملی ہے۔

انہوں نے مزید کہا اس میں فیصلہ سازی اور رویے کے حوالے سے بھی کئی کوتاہیاں دیکھی گئی ہیں۔ 7 اکتوبر کے حملے کے دن کے کئی سبق ہیں اور کئی اہم باتیں ہیں جنہیں ہمیں آئندہ سیکھنا ہے۔ ہمیں اپنے مستقبل کو خیال میں رکھتے ہوئے اپنی خدمات انجام دینا ہوں گی۔ اب میں اپنی قیادت کے دنوں میں انہی چیزوں پر توجہ دینا چاہوں گا۔

اسرائیلی فوج میں یہ انضباطی کارروائی سخت عوامی دباؤ کے نتیجے میں سامنے لائی گئی ہے۔ کیونکہ اسرائیل میں کسی فوجی ذمہ دار کو اپنی کارکردگی یا عدم کارکردگی کے حوالے سے احتساب سے بالا نہیں سمجھا جاتا۔

اسرائیلی فوج نے اپنے حکام کا احتساب کر کے اپنے سسٹم کو بہتر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے ابھی تک اس سلسلے میں قومی سطح پر کوئی انکوائری شروع نہیں کرائی ہے۔

جبکہ عوام کی طرف سے یہ مطالبہ ہفتہ کے روز بھی ان ہزاروں مظاہرین کی طرف سے کیا جا رہا تھا جو فوجی حکام کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

یاد رہے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں 1200 اسرائیلی شہری مارے گئے تھے اور 250 کے قریب اسرائیلیوں کو حماس نے قیدی بنا لیا تھا۔

اس جنگ کے دوران اسرائیل سے جہاں بہت سے خاندان دوسرے ملکوں میں منتقل ہوگئے وہیں اسرائیل کو مختلف شعبوں کے برین ڈرین کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اب دو سال بعد سخت عوامی دباؤ پر اسرائیلی فوجی حکام کے احتساب کے کٹہرے میں لائے جانے کا باضابطہ بیان جاری کر دیا گیا ہے کہ ان کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں