شام کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی رہائشی کالونی افراتفری کا شکار، غیر قانونی اسلحہ کی بھرمار

دو دن قبل رہائشی کالونی کے اندر ایک جھگڑا ہوا جو ایک طالب علم کے سر پر پستول مارنے پر ختم ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام میں دمشق میں یونیورسٹی کی رہائشی کالونی خطرناک افراتفری کا شکار ہوگئی۔ شامی باشندے خاص طور پر مزہ آٹو سٹریڈ پر واقع یونیورسٹی سٹی کی خطرناک صورتحال سے متعلق خبروں کے پھیلاؤ میں مصروف رہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی پوسٹوں میں واضح کیا گیا کہ مزہ رہائشی کالونی خطرناک افراتفری کی حالت میں ہے جہاں طلبہ کے درمیان اسلحہ بغیر کسی نگرانی کے پھیلا ہوا ہے۔

جمعرات کو ایک پوسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ دو دن قبل رہائشی کالونی کے اندر ایک جھگڑا ہوا جو ایک طالب علم کے سر پر پستول مارنے پر ختم ہوا۔ ایک اور پوسٹ میں بتایا گیا کہ رہائشی کالونی بغیر کسی سکیورٹی اور گارڈز کے اور بغیر کسی کنٹرول کے کھلے دروازوں کے ساتھ چل رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بری بات یہ سامنے آئی ہے کہ رہائشی کالونی میں طالبات بھی رہتی ہیں اور اس سے صورتحال مزید حساس اور خطرناک ہوجاتی ہے۔

ایک تبصرہ نگار نے رائے دی کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض غفلت نہیں ہے بلکہ طلبہ کی جانوں اور حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے محفوظ ہونا چاہیے۔ یہ خبریں دمشق میں یونیورسٹی سٹی کی جنرل اتھارٹی کے اس اعلان کے چند ہفتوں بعد آئیں کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے جس کے لیے ایک جامع تنظیمی اور خدماتی اقدامات کی سیریز کے ذریعے اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ انہیں ایک آرام دہ اور محفوظ رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عماد الدین الایوبی نے اس مہینے کے شروع میں خبر ایجنسی کے نمائندے کو ایک بیان میں وضاحت کی تھی کہ اس سال طالب علم کی یونیورسٹی رہائش میں رجسٹریشن کو آسان بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں یونیورسٹی رہائش کے لیے رجسٹریشن کی مخصوص الیکٹرانک ایپلی کیشن "مدینتی" کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے تاکہ یہ زیادہ لچکدار ہو اور خدمات کا ایک وسیع پیکیج فراہم کرے۔ اس ایپ کے کے ذریعے رجسٹریشن کی درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے، فیسیں الیکٹرانک طریقے سے ادا کی جا سکتی ہیں اور شکایات بھیجی جا سکتی ہیں تاکہ ان پر جلد از جلد کارروائی کی جا سکے۔ اسی طرح اس ایپ کے ذریعے مختلف خصوصیات اور مہارتوں میں کورسز کے لیے رجسٹریشن بھی کی جا سکتی ہے۔

اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عماد الدین الایوبی نے کہا ہے کہ ایک خصوصی کمیٹی "رہائشی کمیٹی" کے نام سے تشکیل دی گئی ہے جو پانچ ممبران پر مشتمل ہے اور اسے پیش کی گئی درخواستوں کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر شفافیت کے ساتھ اور کسی بھی سفارش سے دور رہ کر مسائل کو حل کرتی ہے۔

سب سے بڑی کالونی

واضح رہے دمشق میں یونیورسٹی سٹی 1962 میں قائم کی گئی تھی اور اسے شام میں یونیورسٹی رہائش کی سب سے بڑی کالونی سمجھا جاتا ہے جہاں 25 رہائشی یونٹس شامل ہیں جو تین مجموعوں میں تقسیم ہیں۔ مزه، برزہ اور ھمک۔ یہ کالونی تمام صوبوں سے 20 ہزار سے زیادہ طلبہ کو رہائش فراہم کرتی ہے۔ اس میں عرب اور غیر ملکی طلبہ رہائش پذیر ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے بارے میں کئی انتباہات پھیلائے گئے ہیں ۔ متعلقہ حکام سے عمارت میں سکیورٹی کی خامی دور کرنے کے لیے مداخلت کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں