مصری طلبہ کو ایک استاد کی توہین کے الزام میں ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا

مصر کے وزیر تعلیم نے زور دیا کہ "استاد کی عزت سرخ لکیر ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر ی وزارت تعلیم نے ہفتے کے روز ایک فوری بیان میں تصدیق کی کہ وزیر محمد عبد اللطیف نے فوری اور سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں کیا گیا کہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عبدالسلام المحجوب اسکول، اسکندریہ کے طلبہ غیر مناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک استانی کو توہین کا نشانہ بناتے دکھائی دیے۔

وزیر نے اس واقعے کو قانونی امور کے حوالے کر دیا تاکہ اسکول کی انتظامیہ اور تعلیمی ادارے کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین سزا عمل میں لائی جا سکے۔اس کے ساتھ ہی وزیر نے حکم دیا کہ اس واقعے میں شامل طلبہ کو مکمل طور پر ایک سال کے لیے معطل کیا جائے اور انہیں اگلے تعلیمی سال 2026/2027 سے قبل کسی بھی دوسرے اسکول میں داخلہ نہ دیا جائے۔

وزیر نے زور دیا کہ "استاد کی عزت سرخ لکیر ہے" انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی بھی ایسے اقدام میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں جو استاد کی وقار کو مجروح کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول میں نظم و ضبط اور استاد کا احترام تعلیمی عمل کی بنیاد ہیں۔وزیر نے خبردار کیا کہ اسکول میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا استاد کے ساتھ زیادتی کرنے والے طلبہ کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں طلبہ کلاس روم میں رقص کرتے اور استاد کے لیے چیخ و پکار کرتے دکھائی دیے۔ اس ویڈیو میں طلبہ کرسیاں اٹھاتے اور استاد کو ہراساں کرتے نظر آ رہے ہیں، جبکہ اسکول میں نگرانی کا فقدان تھا، جس کی وجہ سے عوام نے فوری تحقیقات اور نظم و ضبط کے اقدامات میں سختی کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں