’’ نیتن یاہو بریت کا حقدار نہیں‘‘ اسرائیلی صدر کے گھر کے سامنے مظاہرے

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے مقدمے کی مسلسل سماعت کو ملک کو اندر سے تقسیم کرنے کے مترادف قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

تل ابیب میں اسرائیلی صدر ہرزوگ کی رہائش گاہ کے سامنے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ممکنہ معافی دیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظاہرے شروع ہوگئے۔ مظاہرین نے ممکنہ فیصلے کے خلاف نیتن یاہو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور زور دیا کہ وہ بریت کے حقدار نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ اور مظاہرے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

نیتن یاہو نے اس اقدام کی حوصلہ افزائی کرنے والے محرکات کی وضاحت کرتے ہوئے اتوار کو ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو بڑے چیلنجز اور اس کے ساتھ عظیم مواقع درپیش ہیں۔ خطرات کو روکنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے مقدمے کی مسلسل سماعت ملک کو اندر سے تقسیم کر رہی ہے، گہرے اختلافات پیدا کر رہی ہے اور تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا "میں، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، پراعتماد ہوں کہ مقدمے کا فوری طور پر اختتام کشیدگی کو کم کرنے اور وسیع مفاہمت کو فروغ دینے میں بہت زیادہ حصہ ڈالے گا۔ اسی کی ہماری ریاست کو اشد ضرورت ہے۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ وہ معافی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کرنے میں بہت ہچکچاہٹ کا شکار تھے لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے پلڑا بھاری کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کی تشکیل کی وجہ سے، انہیں ہفتے میں تین بار گواہی دینے کے لیے کہا گیا ہے،" اس مطالبے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل میں کسی دوسرے شہری پر مسلط نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو بار بار کی اپیلوں کو بھی مدنظر رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے مقدمے کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اہم مفادات کو ایک ایسے وقت میں آگے بڑھا سکیں جو شاید دوبارہ نہ آئے۔ آخر میں انہوں نے اشارہ کیا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر ان کے وکلا نے آج اسرائیلی صدر کو معافی کی درخواست پیش کی۔ یاد رہے عام طور پر ملزم کے اعتراف جرم کے بغیر صدر معافی نہیں دے سکتے جب تک کہ ڈرامائی غیر معمولی حالات موجود نہ ہوں جو عدالتی طور پر طے ہوں۔

یائر لاپڈ کی تنقید اور کاٹز کی حمایت

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ہرزوگ سے اسے قبول کرنے کی اپیل کی۔ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے بھی کہا کہ نیتن یاہو کو معافی دینا اسرائیل کے مفاد اور اتحاد کی خدمت کرتا ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے فیصلے پر تنقید کی۔ انہوں نے اسرائیلی صدر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نیتن یاہو کو اس وقت تک معاف نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ اپنا جرم قبول نہ کر لیں اور سیاسی زندگی سے دستبردار نہ ہو جائیں۔

اسرائیلی صدر کے دفتر نے دو ہفتے قبل انکشاف کیا تھا کہ ہرزوگ کو اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں ان سے وزیر اعظم کو معافی دینے پر غور کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمات سیاسی اور غیر ضروری ہیں۔

بدعنوانی کے تین مقدمات

یاد رہے نیتن یاہو کو بدعنوانی کے تین مقدمات کا سامنا ہے جن میں سے ایک میں تاجروں سے تقریباً سات لاکھ شیکل یا دو لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر کے تحائف وصول کرنے کا الزام ہے۔ تاہم 2020 میں شروع ہونے والی اور غزہ میں دو سال کی جنگ کے دوران بارہا روکی جانے والی اس طویل سماعت میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی بے گناہی کا دفاع کیا ہے اور کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں