فلسطینی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد کے مسلح دھڑوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے (1300GMT ) ایک اسرائیلی قیدی کی باقیات حوالے کریں گی۔
غزہ میں موجود آخری دو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیلی شہری ران جفیلی اور تھائی باشندے سودتھیساک رینتھالاک کی ہیں۔
اسی دوران اسرائیل نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ سے موصول ہونے والی انسانی باقیات ان دونوں میں سے کسی بھی یرغمالی کی نہیں ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ فارنزک جانچ کے مطابق حماس کی جانب سے منگل کو دی گئی باقیات دونوں لا پتا یرغمالیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
منگل کے روز انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے کہا تھا کہ حماس نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت غزہ میں موجود آخری یرغمالیوں میں سے ایک کی لاش کی باقیات حوالے کی ہیں۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غزہ میں وہ “نمونے” وصول کیے ہیں جنہیں مزید فارنزک ٹیسٹ کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا جائے گا۔
رواں سال10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت، حماس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمام 48 یرغمالیوں کو واپس کرے گی جن میں 20 زندہ افراد تھے۔
اب بھی غزہ میں 28 میں سے 2 یرغمالیوں کی لاشیں باقی ہیں۔
یہ باقیات ران جفیلی اور سودتھیساک رینتھالاک کی ہیں، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔
ریڈ کراس نے پوری جنگ کے دوران غزہ کے مسلح گروہوں اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور ہلاک شدگان کی لاشیں واپس لانے کے عمل میں سہولت ملی۔
-
رفح کراسنگ چند روز میں صرف غزہ کےلوگوں کی بیرون ملک منتقلی کے لیےکھولا جائے گا:اسرائیل
اسرائیلی حکومتی رابطہ یونٹ برائے فلسطینی اراضی کوگات نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
غزہ تک رسائی کا معاملہ: فرانسیسی صحافیوں نے اسرائیل کے خلاف قانونی شکایت درج کروا دی
دو صحافی یونینز نے فلسطینی علاقوں میں فرانسیسی صحافیوں کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے ...
مشرق وسطی -
غزہ کے لوگوں کی جبری ہجرت قبول نہیں ہو گی ... اسرائیلی بیان کے بعد مصری ذریعے کا موقف
ہم رفح گزرگاہ کو غزہ کے اُن رہائشیوں کے لیے کھولیں گے جو اس علاقے سے نکلنا چاہتے ...
مشرق وسطی