ایک مصری ذریعے نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا کہ مصر اپنے ہاں موجود غزہ کے رہائشیوں کو دوبارہ غزہ واپس جانے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر صرف غزہ سے آنے والے زخمیوں، مریضوں اور انسانی بنیادوں پر حالتوں کو قبول کرے گا۔
مصری ذریعے کے مطابق رفح کی سرحدی گزرگاہ کو اصول و ضوابط کے مطابق اور دونوں سمتوں میں کھولا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ سے مصر کی طرف کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی نہیں ہو گی۔
ان کے مطابق مصر غزہ کے اندر رہائش کے لیے عارضی مکانات اور خیمے بھیجنے کی درخواست کرے گا۔
مصری ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو یہ بھی بتایا کہ مصر غزہ کے شہریوں کی جبری بے دخلی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا اور وہ امریکہ اور دیگر ثالثوں کو اسرائیلی بیانات پر اپنے سخت اعتراض سے آگاہ کرے گا۔
اس سے قبل بدھ کے روز ایک مصری سرکاری ذریعے نے ان اسرائیلی میڈیا رپورٹوں کی سختی سے تردید کی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ کچھ دنوں میں مصر اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے باسیوں کو خارج کرنے کے لیے رفح کراسنگ کھولنے پر کوئی ہم آہنگی ہو گئی ہے۔
مصری ذریعے نے کہا کہ اگر کراسنگ کھولنے پر کسی اتفاق تک پہنچا بھی گیا تو آمد و رفت دونوں سمتوں میں ہو گی .. یعنی غزہ میں داخل ہونا بھی اور غزہ سے نکلنا بھی۔ یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منصوبہ بندی کے مطابق ہو گی۔
ادھر ایک اسرائیلی اہل کار نے کہا کہ “اگر مصر غزہ کے رہنے والوں کو قبول نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے” اور اسرائیل غزہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے رفح کراسنگ کھول دے گا۔
اس سے قبل اسرائیلی سرکاری یونٹ “کوگات” نے اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ چند دنوں میں کھولی جائے گی تاکہ صرف غزہ کے رہائشیوں کو مصر منتقل ہونے کی اجازت دی جا سکے، اور یہ اقدام غزہ میں نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ہو گا۔ کوگات ادارہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومت کے شہری و عسکری رابطے کی ذمے دار ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی قاہرہ اور یورپی یونین کے مشن کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد کی جائے گی، جو کراسنگ کی نگرانی میں شامل ہے۔
دوسری جانب فتح تحریک نے ایک مرتبہ پھر رفح کو صرف ایک طرف سے کھولنے کی اسرائیلی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
فتح کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے فیصلے میں واضح طور پر کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنے پر زور دیا گیا ہے اور اس کی پابندی ضروری ہے۔
تحریک نے اسرائیل کو ان تمام اقدامات کا ذمے دار قرار دیا جو جبری نقل مکانی کی کوششوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ فتح نے کہا کہ غزہ سے جبری ہجرت نہ قومی طور پر قبول ہے اور نہ بین الاقوامی سطح پر۔
تحریک نے مزید کہا کہ اسرائیلی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ فتح نے زور دے کر کہا کہ وہ رفح کو یک طرفہ طور پر کھولنے کی تجویز کو پوری طرح مسترد کرتی ہے۔
-
غزہ میں جنگی تباہ کاریوں کے درمیان 54 جوڑوں کی اجتماعی شادی
اجتماعی شادیوں کی اس تقریب کا اہتمام الفارس الشاہیم کی مالی اعانت سے کیا گیا جو کہ ...
ایڈیٹر کی پسند -
رفح کراسنگ چند روز میں صرف غزہ کےلوگوں کی بیرون ملک منتقلی کے لیےکھولا جائے گا:اسرائیل
اسرائیلی حکومتی رابطہ یونٹ برائے فلسطینی اراضی کوگات نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
غزہ تک رسائی کا معاملہ: فرانسیسی صحافیوں نے اسرائیل کے خلاف قانونی شکایت درج کروا دی
دو صحافی یونینز نے فلسطینی علاقوں میں فرانسیسی صحافیوں کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے ...
مشرق وسطی