کسی بھی خلیجی ملک کی خود مختاری کو ضرر ہمارے اجتماعی امن کے لیے خطرہ ہے : بحرین اجلاس

اجلاس کے اعلان میں مشترکہ خلیجی منڈی کے تقاضوں کو مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خلیج تعاون کونسل کے 46 ویں سربراہ اجلاس میں قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کی خود مختاری کا احترام کیا جائے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ کونسل کے رکن ممالک کا امن و استحکام مشترکہ اور ناقابلِ تقسیم ہے، اور کسی ایک ملک کی خود مختاری کو نقصان پہنچانا پورے اتحاد کے اجتماعی امن کے لیے خطرہ ہے۔

اجلاس کے اعلان میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، دوست ممالک اور عالمی تنظیموں کے ساتھ سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی شراکت داری بڑھانے اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں روابط مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس نے شدت پسندی، دہشت گردی، نفرت انگیز تقاریر اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بھی زور دیا۔ علاوہ ازیں بحرین میں قائم مشترکہ بحری فورسز کی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں اور عالمی تجارت کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ خلیجی رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو جوہری اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی ضرورت بھی دہرائی۔

اجلاس نے شرم الشیخ سربراہ اجلاس کے نتائج کا خیر مقدم کیا اور غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کی۔ رہنماؤں نے انسانی امداد کی ترسیل، تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کی مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام علاقائی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

قائدین نے بحرین کو آنے والے دو برسوں کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عرب گروپ کی نمائندگی ملنے پر اعتماد کا اظہار کیا اور اسے عالمی امن و مکالمے کے فروغ میں اہم شراکت دار قرار دیا۔

قائدین نے خلیجی مشترکہ تعاون کے سفر میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا جس نے دفاعی، سکیورٹی، اقتصادی اور سفارتی سطح پر خلیجی اتحاد کے استحکام کو واضح کیا ہے۔ اجلاس نے اس عزم کو دہرایا کہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی میدانوں میں مزید ہم آہنگی اور یکجہتی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی، تاکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو مزید تقویت ملے۔

اجلاس کے اعلان میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے، تزویراتی اتحاد اور برادرانہ یکجہتی کو مضبوط کرنے اور خطے کے پائیدار مستقبل کے لیے مشترکہ وژن اپنانے پر زور دیا گیا۔

اقتصادی حوالے سے اجلاس نے سعودی مشترکہ منڈی، کسٹم یونین، تجارت، سیاحت اور تزویراتی سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا، خصوصاً نقل و حمل، توانائی، مواصلات، پانی اور خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ ساتھ ہی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ای کامرس، مشترکہ ادائیگی کے نظام، کلاؤڈ سروسز اور ٹیکنالوجی و سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

قائدین نے ماحولیات کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور صاف توانائی کے منصوبوں کے فروغ پر بھی زور دیا، تاکہ خلیجی ریاستیں اس حوالے سے متعین اہداف میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

آخر میں، اجلاس نے اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کی شرکت کو سراہا اور خلیجی ممالک و اٹلی کے درمیان جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں