گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز زیر گردش آئی ہیں جن میں شامی دار الحکومت دمشق کے قلب میں واقع تاریخی "اُموی مسجد" کے اندر ایک صندوق رکھا ہوا دکھایا گیا ہے۔
وڈیوز میں نظر آتا ہے کہ صندوق کو سبز رنگ کے کپڑے سے ڈھانپا گیا ہے، جس پر مملکتِ سعودی عرب کا نشان اور جمہوریہ شام کا نشان نقش ہے، جبکہ اس کے ارد گرد سخت سکیورٹی تعینات ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث میں کچھ کارکنان نے وضاحت کی کہ یہ صندوق سعودی عرب کی جانب سے شام کے لیے ایک تحفہ ہے جسے "یوم التحریر" کے موقع پر کھولنے کا منصوبہ ہے ... یعنی بشار الاسد کے نظام کے سقوط کی سال گرہ کے روز جو 8 دسمبر کو منائی جائے گی۔
ان ذرائع نے یہ بھی اندازہ ظاہر کیا کہ تحفے میں شاید جامع کے تاریخی مقامات کے لیے مرمتی یا زیبائشی غلاف شامل ہوں اور ممکن ہے کہ یہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مزار کے تحفظ کے لیے ہوں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا سر اسی مسجد میں مدفون ہے۔
ماهو الصندوق الأخضر المغطى بستار داخل الجامع الأموي 🇸🇦🇸🇾 ؟
— أخبار السعودية (@SaudiNews50) December 4, 2025
هدية سعودية عبارة عن قطعة حديثة من ستار الكعبة المشرفة .
* سيُكشف عنه في #يوم_التحرير بسوريا . pic.twitter.com/DD77jOzrCO
تاہم سوشل میڈیا پر سعودی خبروں کے بعض صفحات نے بتایا کہ یہ تحفہ دراصل بیت اللہ کے پردے کے ایک حصے پر مشتمل ہے جو سعودی عرب کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صندوق کے اندر کیا ہے، کیونکہ کسی قسم کا سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اُموی مسجد مسلمانوں کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے، جس کی تعمیر اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور (705–715ء) میں ہوئی۔
یہ مسجد شامیوں کے لیے عظیم اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ اسے اسلامی اور تعمیراتی ورثے کی علامت سمجھتے ہیں اور اسے عالمی شہرت بھی حاصل ہے۔
وصلت هدية من المملكة العربية السعودية إلى الجامع الأموي في العاصمة دمشق، وسيُعلن عنها في #يوم_التحرير كما قال المسؤولون هناك
— مُضَر | Modar (@ivarmm) December 2, 2025
هدية جميلة وتليق بجامع بني أمية.. pic.twitter.com/i9AID7XOs0
یہی وہ پہلی مسجد ہے جہاں محراب اور نیم گنبدی ساخت کا ظہور ہوا، جو دراصل اس کے اس قدیم طرزِ تعمیر کا اثر ہے، کیونکہ یہاں پہلے یوحنا المعمدان (جان دی بیپٹسٹ) کا گرجا موجود تھا۔
اس کے تین میناروں میں سب سے قدیم یعنی شمالی مینار ولید بن عبدالملک کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے دمشق شہر کی منارہ نشانی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا اور قرونِ وسطیٰ میں عبادت اور ریاضت میں مصروف رہنے والوں کے لیے پناہ گاہ کا کردار بھی ادا کرتی تھی۔ اسی مینار سے چوکور شکل کی مناروں کا نمونہ شام سے لے کر شمالی افریقا اور اندلس تک پھیلا۔
-
عرب لیگ میں شامی کھلاڑیوں نے تیونس کو شکست دینے کے لیے ''مافیا'' کی مدد کیسے لی؟
شامی قومی ٹیم نے عرب کپ 2025 میں اپنا آغاز تیونس کے خلاف ایک صفر سے فتح کے ساتھ ...
مشرق وسطی -
شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اسرائیل رابطے جاری ہیں : "العربیہ" ذرائع
ٹرمپ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں تحمل کے راستے پر قائم ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب نے پاکستان کیلئے تین ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کر دی
سعودی عرب نے پاکستان کیلئے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر ...
پاكستان