"العربیہ" ایکسکلوسیو: بشار الاسد کی الغوطہ کو گالیاں، اپوزیشن کے گڑھ سے نفرت کا اظہار
الغوطہ دمشق کے قریب مسلح اپوزیشن کا سب سے بڑا اڈہ تھا اور حکومت کی نظر میں براہ راست خطرہ تھا
معزول شامی صدر بشار الاسد کے اس جملے "یلعن ابو الغوطة" (لعنت ہو ابو الغوطہ پر) جو "العربیہ" اور "الحدث" چینلوں کی خصوصی لیکس میں سامنے آیا کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بشار الاسد الغوطہ کے ساتھ ہمیشہ تصادم کی حالت میں کیوں رہے؟ خاص طور پر جب انہوں نے اس پر سخت ناکہ بندی کی اور پھر سارین گیس سے حملہ کیا اور اس حملے نے عالمی سطح پر صدمہ اور تکلیف دہ صورت حال پیدا کردی تھی۔ یاد رہے الغوطہ بشار الاسد کے دور میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔
’’ العربیہ ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کی خصوصی لیکس میں بشار الاسد اپنی مشیر لونا الشبل کے ساتھ الغوطہ میں کار میں گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لونا ان سے پوچھتی ہیں کہ جب ہم یہاں سے جا رہے ہوں گے تو ہم الغوطہ سے کیا کہیں گے؟۔ جس پر بشار نے ہنستے ہوئے جواب دیا "یلعن ابو الغوطة"۔
2011 میں شامی انقلاب شروع ہونے کے بعد مشرقی الغوطہ اپوزیشن کے سب سے نمایاں گڑھ میں سے ایک بن گیا تھا جس کی وجہ سے یہ بشار حکومت کی طرف سے سب سے زیادہ نشانہ بننے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ 2013 کے اوائل میں بشار حکومت نے الغوطہ پر سخت ناکہ بندی نافذ کر دی تھی جس میں قابض گروپوں کو زیر کرنے اور دمشق تک ان کی توسیع کو روکنے کی کوشش میں خوراک، طبی سامان اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنا شامل تھا۔ اسی سال 21 اگست کو مشرقی الغوطہ کے شہروں اور قصبوں پر ایک پرتشدد حملہ ہوا جس کے نتیجے میں سینکڑوں بچوں سمیت 1100 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم نے خالص سارین گیس کے استعمال اور حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے میزائل فائر کیے جانے کی تصدیق کی۔ اس حملے نے عالمی سطح پر صدمہ پیدا کیا اور امریکہ کو بشار الاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا اشارہ دینے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد اس کے کیمیائی ہتھیاروں کو حوالے کرنے کا معاہدہ طے پایا۔
ایک سب سے بڑی وجہ جو بشار الاسد کے الغوطہ کی طرف تشدد کی وضاحت کرتی ہے وہ یہ تھی کہ الغوطہ دارالحکومت سے متصل سب سے بڑا مسلح اپوزیشن کا اڈہ تھا۔ اس قرب نے اسے حکومت کی نظر میں براہ راست خطرہ بنا دیا تھا۔ 2018 میں برسوں کی ناکہ بندی اور شدید گولہ باری کے بعد بشار الاسد نے روسی حمایت سے مشرقی الغوطہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ ایک فوجی مہم تھی جو الغوطہ کے ہزاروں باشندوں کو شمالی شام کی طرف بے گھر کرنے پر ختم ہوئی۔
-
بشار الاسد کس طرح پوتین کا مذاق اڑاتے تھے؟ "العربیہ" پر خصوصی کلپس نے دکھا دیا
پوتین تو سارا آپریشنز والا ہے، اس کی عمر 65 سال ہے، فلم نے اسے بہت بے نقاب کر دیا ...
مشرق وسطی -
ہمیں کہا گیا کہ ایرانی اب جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے:بشارالاسد
بشارالاسد کے اقتدار کے آخری ایام افراتفری میں گذرے، ایران نے اپنے دیرینہ اتحادی کو ...
مشرق وسطی -
شامی عوام دمشق پر کنٹرول اور بشار حکومت کے خاتمے کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں
شام کے عوام آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کی پہلی سالگرہ منا رہے ...
مشرق وسطی