اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اردن کے ساتھ سرحد پر موجود اپنے زیر کنٹرول راہداری کو کھول کر مغربی کنارے کے راستے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کے لیے تیار ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ماہ ستمبر کے بعد کسی اسرائیلی ذمہ دار نے اس بارے میں منگل کے روز آمادگی ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی ذمہ دار کے مطابق یہ اقدام اس افہام و تفہیم کی پیروی اور ان ہدایات کی روشنی میں کیا جا رہا ہے جو سیاسی ضرورتوں کے پیش نظر جاری ہیں اور بدھ کے روز سے یہ راہداری کھول دی جائے گی۔ جس کے نتیجے میں اردن سے امدادی سامان یہودیا اور سامریا کے راستے غزہ کی پٹی تک پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔
یاد رہے اسرائیلی یہودی مغربی کنارے کو اپنے مذہبی پس منظر میں یہودیا اور سامریا کے حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
ٹھیک دو ماہ پہلے غزہ میں اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ قبول کیا تھا۔ تاہم ابھی تک اس معاہدے کی بہت ساری شقوں پر عمل باقی ہے۔ خاص طور پر امدادی سامان کی ترسیل اور خوراک کی فراہمی میں دو ماہ کی جنگ بندی گزرنے کے باوجود اسرائیل کی طرف سے بہت ساری رکاوٹیں موجود ہیں۔ البتہ اب دو ماہ کے بعد اسرائیلی ذمہ دار نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اردن کی سرحد پر موجود راہداری کو کھولے گا۔
-
اسرائیل نے اس سال پھر سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا: رپورٹ
صحافتی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے منگل کے روز کہا کہ اس سال تمام ...
مشرق وسطی -
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے حماس کی اسرائیلی خلاف ورزیاں روکنے کی شرط
اسرائیل غزہ کی پٹی میں آنے والی انسانی امداد کی مقدار میں بڑے پیمانے پر کمی کر رہا ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی خلاف ورزیوں کی موجودگی میں جنگ بندی کا کوئی دوسرا مرحلہ نہیں ہو سکتا : حماس
حماس کے ایک ذمہ دار نے منگل کے روز دو ٹوک انداز میں باور کرا دیا ہے کہ اسرائیلی ...
مشرق وسطی