ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے انتہائی کوششیں کریں گے : اسرائیلی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی کے لیے امریکی کوششوں کے دوران ... اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کرے گی۔ آج بدھ کے روز ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائے گی۔ تاہم ساعر نے حماس تنظیم پر الزام عائد کیا کہ وہ منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ توانائی ایلی کوہین نے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی ضرورت ہے، لیکن اس میں ترکیہ یا قطر کی شرکت نہیں ہونی چاہیے۔ واشنگٹن نے تل ابیب پر زور دیا تھا کہ وہ دوسرے مرحلے کی جانب جلدی بڑھے، تاہم بعض رکاوٹیں ابھی باقی ہیں جن میں بین الاقوامی فورسز کی شمولیت، حماس کو غیر مسلح کرنا اور فلسطینی علاقے کی نگرانی کے لیے "کونسل آف پیس" کا کردار شامل ہے۔

دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل غزہ کے موجودہ علاقوں سے دست بردار ہو گا، ایک عبوری حکومت اقتدار سنبھالے گی، بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہو گی اور حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا۔

تاہم اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے گذشتہ اتوار کہا کہ "یلو لائن" ایک نئی سرحد، بستیوں کے لیے دفاعی لائن اور حملے کی لائن بھی ہے۔ اس بات سے یہ بالواسطہ اشارہ ملا کہ اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا نہیں ہو گا۔

ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی بہت جلد ممکن ہے، مگر یہ عمل زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں