غزہ نسل کشی: اسرائیل کے خلاف یورو ویژن مقابلوں کے فاتح کا احتجاجا انعام واپس کرنے کا اعلان
سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے یورو ویژن کے سال 2024 کے مقابلوں میں فاتح قرار پانے والے گلوکار نیمو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں بدترین جنگ بندی کے باوجود یورو ویژن مقابلوں میں شرکت کی اجازت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا انعام واپس کر رہے ہیں۔
سوئس یورو ویژن فاتح نیمو نے جمعرات کو یہ اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد بھی اسرائیل کی یورو ویژن میں مسلسل شرکت کے خلاف وہ احتجاج کریں گے اور اپنی جیتی ہوئی انعامی ٹرافی احتجاجا واپس کر دیں گے۔
یاد رہے نیمو نے 2024 کے یورو ویژن فیسٹیول کے دوران مختلف مقابلوں میں انعامات جیتے اور یورو ویژن کے فاتح قرار پائے تھے۔
اس فاتح پرفارمر نے اسرائیل کے حق میں یورپی نشریاتی یونین کے فیصلوں کے خلاف اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یورو ویژن کے مقابلوں میں اسرائیل کو شرکت کی اجازت دینا ہم تمام لوگوں کے وقار کے خلاف ہے۔
یورو ویژن کے منتظمین نے پچھلے ہفتے اسرائیل کو آسٹریا میں اگلے سال ہونے والے ایونٹ میں حصہ لینے کی ایک بار پھر اجازت دی ہے۔
اسرائیل کو اجازت ملنے کے بعد پانچ ملکوں نے خود کو یورو ویژن مقابلوں سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جبکہ نیمو نے 'انسٹاگرام' پر ایک پوسٹ میں کہا اس کا مطلب اتحاد، شمولیت اور تمام لوگوں کے لیے وقار کے خلاف فیصلہ ہے۔ اسرائیل کی مسلسل یورو ویزن میں شرکت اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن کے اس اخذ کردہ نتائج کے باوجود ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔
اس لیے واضح ہو گیا ہے کہ یورپی براڈ کاسٹنگ یونین کے فیصلے عوامی رائے سے متصادم ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نسل کشی کے واقعات کی تردید کرتا ہے۔ بلکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی ریاست بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہے۔
یاد رہے آئس لینڈ 2026 کے یورو ویژن مقابلوں میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
آئس لینڈ کے پبلک براڈکاسٹر ادارے 'آر یو وی' نے بدھ کے روز بتایا سپین، ہالینڈ، آئرلینڈ اور سلووینیا کے ساتھ اس فیصلے میں آئس لینڈ بھی شامل ہے۔
نیمو نے کہا یہ افراد یا فنکاروں کے بارے میں فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت کے بارے میں ہے کہ مقابلہ کو بار بار ایک ایسی ریاست کی شناخت کمزور کرنے کے لیے ہے۔ یورپین براڈ کاسٹنگ یونین ان مقابلوں کو تقریباً 160 ملین ناظرین تک پہنچاتا ہے۔
نیمو کا کہنا جن اقدار کی ہم سٹیج پر بات کرتے ہیں اگر ان اقدار کو ہم باہر عمل میں نہیں لاتے تو یہ اقدار سے غداری ہے۔