غزہ کی پٹی میں طوفانی بارشیں اور سردی ... 12 افراد جاں بحق، 27 ہزار خیمے ڈوب گئے
شہری دفاع کی ٹیمیں غزہ کی پٹی میں سیکڑوں کالوں اور مدد کی فریادوں پر کارروائی کر رہی ہیں
غزہ کی پٹی میں گذشتہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
اس دوران کم از کم 13 گھر منہدم ہو چکے ہیں جن میں تازہ ترین واقعات غزہ شہر کے دو علاقوں الكرامہ اور شيخ رضوان میں پیش آئے۔ شہری دفاع کی ٹیمیں اب بھی سیکڑوں امدادی کالوں کا جواب دینے میں مصروف ہیں۔
شدید بارشوں اور طوفانی سیلابی ریلوں نے 27 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد کی خیمے پانی میں ڈبو دیے، اکھاڑ دیے یا بہا لے گئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے "وفا" کے مطابق بیت لاہیا کے علاقے بئر النعجہ میں ایک مکان گر جانے سے 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، یہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
اسی طرح جمعے کی صبح غزہ کے مغربی علاقے الرمال میں بے گھر افراد کے خیموں پر ایک بڑی دیوار گرنے سے دو شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مزید برآں غزہ میں شدید سردی کے باعث ایک بچی، جبکہ الشاطی کیمپ میں ایک شیر خوار جاں بحق ہو گیا۔ جمعرات کو بھی الشاطی کیمپ میں دیوار گرنے سے ایک شہری کی موت واقع ہوئی۔
غزہ کے علاقے العمادی میں ابو جبل کیمپ کے اندر خیمہ گرنے سے دو بچے زخمی ہوئے۔ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے علاقے "المواصی" میں گذشتہ روز سخت سردی سے ایک شیر خوار بچی کی موت ہو گئی۔
شہری دفاع کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں میں کم از کم 10 گھر مزید گر چکے ہیں، جن میں دو گھر غزہ میں الکرامہ اور شيخ رضوان کے علاقوں میں زمین بوس ہوئے۔
طوفانی بارشوں کے باعث خان یونس کے علاقے "المواصی" میں پوری کی پوری خیمہ بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ دیر البلح کے علاقے "البصہ" اور "البركہ"، النصيرات میں "مرکزی بازار" اور غزہ شہر میں "اليرموک" اور "الميناء" کے علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین "انروا" نے جمعرات کے روز خبردار کیا کہ موسلا دھار بارشوں اور خیموں کے بھیگنے سے پہلے ہی بگڑی ہوئی صحت و صفائی کی صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ سرد موسم، ناقص نکاسیِ آب اور صفائی کے فقدان سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایجنسی نے انسانی امداد کی فوری رسائی کے لیے راستے کھولنے کی اپیل کی۔