غزہ میں طوفانی بارشوں سے 2.5 لاکھ متاثرین ... بچوں سمیت 16 فلسطینی جاں بحق

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں لاکھوں افراد کو ڈوبنے کے خطرے کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ کی پٹی میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد ہوا کے اس کم دباؤ کے نظام سے متاثر ہوئے جو اپنے ساتھ شدید بارش کا طوفان لے کر آیا۔

شہری دفاع کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 13 گھر گر گئے اور بے گھر افراد کو پناہ دینے والے 27 ہزار خیمے ڈوب گئے۔

شہری دفاع نے نشان دہی کی ہے کہ انہیں خاص طور پر غزہ شہر اور پٹی کے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں سے تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے تلے لاشیں ملی ہیں۔

العربیہ اور الحدث کے کیمرے نے ہوا کے کم دباؤ کے نظام کے اثرات کو ریکارڈ کیا، جو غزہ کی پٹی میں اپنے تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ یہاں ہنگامی امدادی سامان کے داخلے پر پابندیوں کے پیش نظر رہائشیوں کو انتہائی خطرناک انسانی صورت حال کا سامنا ہے، جس نے بے گھر افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اسی تناظر میں اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے جمعہ کو اطلاع دی کہ غزہ کی پٹی میں لاکھوں بے گھر افراد کو شدید بارشوں کے نتیجے میں ان کے خیموں اور پناہ گاہوں کے ڈوبنے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ پناہ گاہوں کی تعمیر کے مواد اور ریت کے تھیلے داخل کرنے کی ممانعت ہے۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے عہدے داروں نے بتایا کہ جمعرات کو غزہ کی پٹی میں ہونے والی شدید بارشوں نے جنگ کے سبب بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والے خیموں کو ڈبو دیا ... اور ایک شیر خوار بچی کی سردی لگنے سے موت ہو گئی۔

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے واضح کیا کہ تقریباً 7.95 لاکھ بے گھر افراد ملبے سے بھرے نچلے علاقوں میں سیلاب کے ممکنہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں خاندان غیر محفوظ پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ تنظیم نے وضاحت کی کہ صفائی اور فضلہ کے انتظام کی خدمات کی کمی سے بیماریوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ پناہ گاہوں کو سہارا دینے کے لیے ضروری مواد، جیسے کہ لکڑی، پلائی ووڈ، ریت کے تھیلے اور پانی نکالنے والے پمپوں کی غزہ آمد پر عائد پابندیوں کے تسلسل کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔

غزہ سے ایک والد نے کہا "اب ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور نہ پینے کو"

غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع النصیرات میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ میں پانی خیموں میں بھر گیا، جس سے گدے، جوتے اور کپڑے گیلے ہو گئے۔ 50 سالہ یوسف طوطح نے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی کوشش کی، لیکن اسے نکالنے کی کوئی جگہ نہیں ملی اور اس کی کوششیں بیکار لگیں۔

یوسف نے کہا "میں نے اور میرے بچوں نے ساری رات کھڑے ہو کر گزاری۔ اگر میں بڑا ہو کر برداشت نہیں کر سکتا، تو بچے کیسے برداشت کریں گے؟"

یوسف کا خاندان خیمے کے قریب ریتلی زمین پر ایک چھوٹی آگ کے گرد جمع ہو گیا اور کھانا پکانا ایک چیلنج بن گیا تھا۔ والد نے ایک گیلا گدا گھسیٹتے ہوئے کہا "اب ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور نہ پینے کو۔"

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کو پہلے بھیجے گئے امدادی سامان، جن میں واٹر پروف خیمے، حرارتی کمبل اور پلاسٹک کی چادریں شامل تھیں، سیلاب سے نمٹنے کے لیے نا کافی تھے۔

تنظیم کی ڈائریکٹر ایمی پوپ نے کہا "جمعرات کو طوفان آنے کے بعد سے، خاندان اپنے بچوں کو ہر ممکن چیز سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

اکتوبر سے جنگ بندی مجموعی طور پر برقرار رہی ہے، لیکن جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے، اور رہائشی حالات بگڑ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں اور فلسطینی حکام نے اشارہ کیا کہ پٹی میں اب بھی موجود 15 لاکھ بے گھر افراد کے لیے 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ 4 ہزار سے زیادہ افراد انتہائی خطرے والے ساحلی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور ان میں سے ایک ہزار افراد براہ راست سمندر سے آنے والی تیز لہروں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے آلودگی سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات سے خبردار کیا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ریک پیپرکورن نے کہا "ہزاروں خاندان ان نچلے ساحلی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جو ملبے سے بھرے ہوئے ہیں، جہاں صفائی کے نظام اور حفاظتی رکاوٹوں کی کمی ہے اور سڑکوں کے ساتھ کچرے کے ڈھیر پھیلے ہوئے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں