نیتن یاہو کی بیت المقدس میں براک سے ملاقات ... شام اور غزہ کے موضوعات زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے اعلان کے مطابق بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز بیت المقدس میں واقع اپنے دفتر میں امریکی سفیر برائے ترکیہ اور خصوصی ایلچی برائے شام ٹوم براک سے ملاقات کی۔

دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر، نائب قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر جیل رائیش، نیتن یاہو کے فوجی سکریٹری، لیفٹیننٹ جنرل رومان جوف مین، امریکہ کے سفیر برائے اسرائیل مائیک ہیکابی اور واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر یحیی ایل لائٹر بھی شریک ہوئے۔

امریکی ایلچی ٹوم براک نے اس ملاقات کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ یہ ایک تعمیری مکالمہ تھا جس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی ذرائع نے بتایا تھا کہ براک سے ملاقات میں وزیر اعظم غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات کریں گے۔ مزید بتایا گیا کہ امریکی مہمان شامی علاقوں میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں سے متعلق متعدد ریڈ لائنز بھی اٹھائیں گے۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل "i24news" نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدے دار نے پچھلے ہفتے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو براک کو اسرائیل مخالف سمجھتے ہیں۔ عہدے دار کے مطابق نیتن یاہو کا خیال ہے کہ امریکی ایلچی ترکیہ کے مفاد سے زیادہ متاثر ہیں اور شامی مفاد کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" نے بتائی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں ہلکی جنگ بندی 10 اکتوبر سے جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

ادھر شام میں 8 دسمبر 2024 کو سابق نظام حکومت کے سقوط کے بعد سے ملک کے جنوب میں اسرائیلی فوج کے چھوٹے پیمانے پر مسلسل حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں