35 سال کے وقفے کے بعد بغداد کے لیے یورپین ملکوں سے پروازوں کی آمد کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کی وزارت ٹرانسپورٹ نے منگل کے روز بتایا ہے کہ یورپی ملک یونان سے پہلی پرواز بغداد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر لینڈ کی ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق 35 سال بعد ایسا ہوا ہے کہ کسی یورپی ملک کا مسافر طیارہ مسافروں کو لے کر عراق پہنچا ہے۔

بیان کے مطابق یورپی ملک یونان کی اس پرواز کی آمد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عراق کا سول ایوی ایشن کا شعبہ بحالی کے مرحلے میں ہے۔

یاد رہے 1990 سے یورپین فضائی کمپنیوں نے عراق کے لیے اپنی پروازیں روک دی تھیں۔ یہ مغربی ملکوں کی پروازیں روکنے کا واقعہ کویت پر عراقی حملے کے بعد سامنے آیا تھا ۔ بعد ازاں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے عراق پر حملہ کر کے 2003 میں عراق کے صدر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا تھا۔ جس کے بعد عراق میں طویل خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور کئی انتہا پسند گروہ سامنے آگئے۔ تاہم اب کئی برسوں کے بعد عراق میں دوبارہ سے استحکام کا ماحول لوٹنے لگا ہے۔

عراقی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو عراق میں سرمایہ کاری کے لیے قائل کر رہی ہے۔ تاکہ ملکی معیشت بہتر ہو سکے۔

منگل کے روز عراقی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا ہے کہ عراق اور ایتھنز کے درمیان فضائی پروازوں کا شروع ہونے والا یہ سلسلہ ابتدائی طور پر ایک ہفتے میں دو پروازوں کے تبادلے سے ہوگا اور بعد ازاں مسافروں کی تعداد کے مطابق اس میں اضافہ کمی ہو سکے گی۔

اسی سال کے شروع میں یونان نے شمالی کردستان کے خودمختار علاقے میں اپنی پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ جبکہ اب بغداد میں بھی ان پروازوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size