آئی سی سی نے غزہ میں جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات روکنے کا اسرائیلی مطالبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اپیل سننے والے ججوں نے پیر کے روز اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے سلسلے میں جاری جنگی جرائم کی تحقیقات کو روک دیا جائے۔

اپیل سننے والے ججوں نے اس سلسلے میں ایک ماتحت عدالت کے فیصلے کو تبدیل کر دیا۔

ان عدالتی احکامات کا مطلب ہے کہ اسرائیلی عہدیداروں اور حکام کے خلاف جنگی جرائم کے سلسلے میں تحقیقات جاری رہیں گی اور اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے جنگی جرائم کے سلسلے میں جو وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے انہیں بھی واپس نہیں لیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی ریاست ہیگ میں قائم اس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کرتی ہے اور اس حقیقت کا بھی انکار کرتی ہے کہ اس نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اسرائیلی ریاست کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے حملے کے بعد جو 7 اکتوبر 2023 کو کیا گیا تھا حماس کو ختم کرنے کے لیے سب کچھ کرتی رہی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں دو سال کی اس جنگ کے دوران 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان اعداد و شمار کی اقوام متحدہ کے ادارے بھی تصدیق کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے سب سے زیادہ فلسطینی بچوں اور عورتوں کو قتل کیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ بمباری اور گولہ باری سے ان بچوں کو قتل کیا ہے بلکہ بھوک اور قحط کا ہتھیار بھی اسرائیلی فوج نے ان بچوں کے خلاف استعمال کر کے ان سینکڑوں بچوں کی جان لی ہے۔

مزید یہ کہ جنگ بندی کے بعد بھی سینکڑوں افراد کو اسرائیلی فوج جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری اور فائرنگ کر کے ہلاک کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں