شام میں اسرائیلی حملوں پر امریکی پابندیاں لاگو، لبنان میں نہیں: ذرائع

حزب اللہ دوبارہ مسلح ہونے کی کوشش کرے گی: فرانسیسی ذرائع کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا ہے کہ شام میں اسرائیلی حملوں پر امریکی پابندیاں اور حدود موجود ہیں لیکن لبنان میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کی جانب سے کسی نئی کشیدگی سے بچانا چاہتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ حزب اللہ دوبارہ سے اسلحہ جمع کرنے کی کوشش کرے گی۔

ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ پیرس اپنی تمام تر کوششیں اس بات کو ثابت کرنے پر مرکوز کر رہا ہے کہ لبنانی فوج جو کہتی ہے وہ کرتی ہے اور وہی کہتی ہے جو وہ کر رہی ہے۔ ایک فرانسیسی ذریعے نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ لبنان کو اس اسرائیلی بیانیے کے خلاف اپنا موقف پیش کرنا چاہیے جو یہ کہتا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا۔

ذریعہ کے مطابق فرانس نے حال ہی میں یہ تجویز بھی دی ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے آپریشنز کے دوران "یونيفل" کے خصوصی دستے لبنانی فوج کے ساتھ رہیں۔ پیرس جمعرات کو ایک چار فریقی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں فرانس، سعودی عرب، امریکہ اور لبنان کے نمائندے شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی کشیدگی ایک سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کر سکتی ہے۔

فرانسیسی ذرائع کے مطابق پیرس لبنان کے گرد منڈلاتے ہوئے شدید خطرے کو محسوس کر رہا ہے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکیاں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ ساتھ ہی فرانس کو اسرائیل کے عزائم کے حوالے سے امریکی موقف میں موجود ابہام پر بھی تشویش ہے۔ رپورٹس کے مطابق فرانس میں یہ عمومی احساس پایا جاتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کا ہاتھ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی جو لبنانی فوج پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ "لیطانی دریا" کے جنوبی علاقے سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے پہلے مرحلے کے اپنے وعدے پورے نہیں کر رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں