ایس ڈی ایف کے ریاستی انضمام پر مذاکرات، اعلیٰ سطحی ترک ٹیم کا پیر کو دمشق کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترک وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ترکی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پیر کو دمشق کا دورہ کرنے والا ہے جس کا مقصد دو طرفہ تعلقات اور کردوں کے زیرِ قیادت سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو شام کے ریاستی نظام میں ضم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

ترکی کے وزرائے خارجہ و دفاع اور اس کے انٹیلی جنس چیف کا دورہ شامی، کرد اور امریکی حکام کی ان کوششوں کے درمیان ہو رہا ہے کہ معاہدے میں کسی قدر پیش رفت نظر آئے۔ لیکن انقرہ نے ایس ڈی ایف پر ایک سال کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی پیش رفت روک دینے کا الزام لگایا۔

شمال مشرقی شام کے بڑے حصے کو کنٹرول کرنے والی اور امریکہ کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کو ترکی نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے اور معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے انقرہ کی طرف سے امید ظاہر کی تھی کہ وہ ایس ڈی ایف کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کرے گا لیکن یہ کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔

وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر بشار الاسد کے خاتمے کے ایک سال بعد دمشق میں ہونے والے مذاکرات میں فیدان، وزیرِ دفاع یاسار گولر اور ترکی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی کے سربراہ ابراہیم قالن شرکت کریں گے۔

ہماری قومی سلامتی داؤ پر لگی ہے: ترکی

ذریعے نے کہا، انضمام کا معاہدہ "ترکی کی قومی سلامتی کی ترجیحات سے قریبی تعلق رکھتا ہے" اور وفد اس کے نفاذ پر تبادلۂ خیال کرے گا۔ ترکی نے کہا ہے کہ انضمام سے یہ بات لازمی یقینی ہو کہ ایس ڈی ایف میں اختیارات کا تسلسل ٹوٹ جائے۔

ذرائع نے پہلے رائٹرز کو بتایا تھا کہ دمشق نے ایس ڈی ایف کو ایک تجویز بھیجی تھی جس میں گروپ کے تقریباً 50,000 ارکان کو تین اہم ڈویژنز اور چھوٹی بریگیڈز میں دوبارہ منظم کرنے کے لیے کشادہ دلی کا اظہار کیا گیا اگر وہ اختیارات کے تسلسل سے کسی قدر دستبردار ہو جائے اور اپنا علاقہ شامی فوج کے دیگر یونٹوں کے لیے کھول دے۔

ترکی کی نظر میں ایس ڈی ایف کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے عسکری گروپ کی توسیع ہے اور وہ کہتا ہے کہ جس طرح پی کے کے اور ترک ریاست کے درمیان تخفیفِ اسلحہ کا عمل جاری ہے تو اسے بھی خود کو غیر مسلح اور تحلیل کر دینا چاہیے۔

انقرہ ماضی میں ایس ڈی ایف کے خلاف سرحد پار سے فوجی کارروائی کر چکا ہے۔ اس نے گروپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ انضمام کا معاہدہ روکنا چاہتا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف ترکی بلکہ شام کے اتحاد کو بھی خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں