اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ملاقات سے قبل سکیورٹی حلقوں میں یہ امکان زیر بحث ہے کہ امریکہ سے اس تجویز کے لیے حمایت طلب کی جائے جس کے تحت نام نہاد "یلو لائن" کو غزہ کے ساتھ اسرائیل کی نئی سرحد قرار دیا جائے۔ اس اقدام کے نتیجے میں غزہ کی مجموعی اراضی کے تقریباً 58 فیصد حصے پر نئی حد بندی لاگو ہو سکتی ہے۔
امکان ہے کہ بنجمن نیتن یاھو آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی اور سکیورٹی سطح پر تفصیلی مشاورت جاری ہے جس میں غزہ کے مستقبل اور اس کی سرحدوں میں ممکنہ تبدیلی سرفہرست موضوعات ہیں۔
پیلی لکیر پر بحث
ان مباحث کے دوران یہ امکان بھی زیر غور ہے کہ امریکہ سے سفارتی حمایت حاصل کر کے اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحدی خط کو ازسرنو متعین کیا جائے اور پیلی لکیر کو اسرائیل کی سرکاری نئی سرحد بنا دیا جائے۔ اس کا عملی مطلب غزہ کی وسیع اراضی کو اسرائیلی حدود میں شامل کرنا ہو گا۔ یہ بات بدھ کے روز اسرائیلی ویب سائٹ والا کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی۔
گفتگو میں شریک ایک سیاسی ذریعے کے مطابق اس تجویز کا بنیادی نکتہ یلو لائن تک کے علاقوں کو شامل کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حماس کو معاشی طور پر کمزور کرنا تاکہ وہ غزہ پر اپنا کنٹرول کھو دے۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا ایک وسیع تر اسٹریٹجک پیغام بھی ہے کہ یہ مستقبل کے لیے ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ جو یہودیوں کو قتل کرے گا وہ اپنی زمین سے محروم ہو جائے گا۔
یلو لائن کے دائرے میں غزہ کی تقریباً 58 فیصد اراضی شامل ہے جس میں بیت حانون، بیت لاہیا اور خان یونس جیسے مرکزی علاقے اور رفح شہر کا بڑا حصہ بھی شامل ہے۔
اسی ذریعے کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ غزہ کے نصف حصے میں عسکری موجودگی برقرار رکھی جائے اور اندرونی اور بیرونی سطح پر اسے معاشی طور پر محدود کیا جائے۔ نہ تعمیر نو ہو گی نہ ترقیاتی منصوبے بلکہ غزہ کو غیر مسلح کرنے پر توجہ دی جائے گی اور وقت کے ساتھ لوگوں کو یہ احساس ہو گا کہ وہاں ان کا کوئی مستقبل نہیں جس کے نتیجے میں وہ غزہ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔
ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل کی جانب سے موجودہ سرحدی لائن کی سمت مشرق کی طرف واپسی کا تصور پیش کیا گیا ہے تاہم عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو غزہ کے نصف حصے کو شامل کرنے کی اجازت دیے جانے کا امکان نہایت کم بلکہ تقریباً ناممکن قرار دیا جا رہا ہے۔
-
غزہ کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر اسرائیل کی بم باری ... حماس کے جنگجوؤں کی تلاش
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں، بالخصوص التفاح کے محلے پر متعدد ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ میں باقی رہنے کا عندیہ ... 'ناحال بریگیڈ' کے بارے میں جانیے
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جو انھوں نے گذشتہ ...
بين الاقوامى -
غزہ سے لے کر ماکروں کے تھپڑ تک ... 2025 پر انمٹ نقوش چھوڑنے والی مؤثر کن تصاویر
بے شک سال 2025 دنیا بھر میں متعدد سیاسی اور انسانی واقعات سے بھرپور رہا، جن میں سے ...
بين الاقوامى