غزہ کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر اسرائیل کی بم باری ... حماس کے جنگجوؤں کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں، بالخصوص التفاح کے محلے پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ بدھ کو صبح سویرے سے ہی اس علاقے میں شدید اور مسلسل بم باری کی جا رہی ہے، تاہم ابھی تک نشانہ بننے والے اہداف کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ یہ علاقے اسرائیل کے زیرِ قبضہ نام نہاد "یلو زون" میں واقع ہیں۔

غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں اسرائیلی ٹینکوں نے موراج راہ داری اور مواصی کے درمیانی علاقوں پر گولہ باری کی۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق، اس دوران رفح کے ساحلوں کے قریب پہنچنے والے بحری جہازوں اور ٹینکوں سے شدید فائرنگ کی گئی، جبکہ ڈرون طیارے بھی اس کارروائی میں شریک تھے۔

عینی شاہدین نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے رفح گورنری کے پانچ مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں زیادہ تر کارروائیاں الجنینہ کے علاقے کے گرد و نواح میں کی گئیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج رفح کی سرنگوں میں حماس کے جنگجوؤں کی تلاش کے لیے مسلسل آپریشن کر رہی ہے۔

خان یونس، جنوبی غزہ کی پٹی سے
خان یونس، جنوبی غزہ کی پٹی سے

انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ہی بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خیموں میں سردی اور گرمی سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات تک میسر نہیں ہیں، اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔

مصری ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ خاندانوں، بالخصوص بیمار افراد کی رہائش کے لیے متحرک کمرے لانے کی اجازت دے۔ اگرچہ کرم ابو سالم سرحد کے ذریعے شاہ سلمان ریلیف سینٹر، مصری ہلالِ احمر اور اماراتی ہلالِ احمر کی امداد پہنچائی جا رہی ہے، تاہم غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ یہ امداد غزہ کی پٹی کے ایک علاقے کی ضروریات کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور طبی آلات کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے (جس کا آغاز 10 اکتوبر سے ہوا تھا) کی تقریباً روزانہ کی خلاف ورزیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکہ "امن منصوبے" کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ یہ مرحلہ "انتہائی پیچیدہ" ہو گا۔

اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں اس وقت تک نہیں جائے گا جب تک رفح میں موجود حماس کے جنگجوؤں کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ ان جنگجوؤں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 200 ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں