لبنان کی حکومت نے جمعہ کے روز ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت 2019 سے چلے آرہے معاشی بحران سے متاثرہ افراد کے لیے کچھ بہتری پیدا کی جا سکے گی۔
2019 میں آنے والے آزمائشی بحران کے نتیجے میں بہت سے لوگ بنکوں میں موجود اپنی بچتوں اور سرمایے سے محروم ہو گئے تھے۔ اگرچہ اس وقت کی اپوزیشن اور بنکوں کی حکام نے اس کی بہت مخالفت کی تھی۔
اس نئے مسودہ قانون میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے یہ اپیل سامنے لائی گئی ہے کہ لبنان اپنے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے معاشی اصلاحات کرے۔
یہ مسودہ قانون حکومتی منظوری کے بعد لبنانی پارلیمان کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ بعد ازاں یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
جمعہ کے روز جب یہ مسودہ قانون لبنانی کابینہ میں ہیش کیا گیا تو 13 وزراء نے اس کی حمایت کی جبکہ 9 وزراء نے اس مسودہ قانون کی مخالفت میں رائے دی۔
اس نئے تجویز کردہ قانون کے مطابق مرکزی بنک، کمرشل بنکس اور بنکوں میں کھاتے رکھنے والے تمام لوگ معاشی بحران کے اثرات کو برداشت کرنے میں شریک ہوں گے۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے صحافیوں کو کابینہ کے اجلاس کے بعد بتایا یہ درست ہے کہ یہ منظوری آئیڈیل صورتحال کی نمائندگی نہیں کرتی اور یہ شائد ہر ایک کی مرضی کے مطابق بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے۔ تاکہ ملکی معیشت کو مزید تباہی سے روکا جائے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے۔
ان کے بقول اس نئے مسودہ قانون کی منظوری کے نتیجے میں ملک میں بنکنگ کا شعبہ شدید معاشی بحران کے بعد بحالی میں آسانی محسوس کرے گا۔
حکومتی اندازے کے مطابق معاشی بحران کے دوران جو نقصان لبنان کو برداشت کرنا پڑا ہے اس کی مالیت 70 ارب ڈالر ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ پچھلے چھ برسوں کے دوران اس معاشی بحران کو دور کرنے کے لیے زیادہ توجہ نہیں دی جا سکی۔
لبنان کے بنکوں میں وہ لوگ جن کی رقم 1 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے اور ایسے لوگ بنک کھاتہ داروں میں 85 فیصد ہیں۔ انہیں بھی اگلے 4 برسوں میں اپنی رقم ملنے کی امید ہوگی۔
علاوہ ازیں 1 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم بنکوں میں رکھنے والے کھاتہ داروں کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم مل سکے گی۔ جبکہ ان کی باقی رقم قابل تجارتی بانڈز سے بدل دی جائے گی۔
وزیر اعظم نواف سلام کے مطابق لبنان کے مرکزی بنک میں 50 ارب ڈالر کی رقم موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا مسودہ قانون میں پہلی بار احتساب اور جوابدہی کا عمل شامل کیا گیا ہے۔
ہر اس شخص کا احتساب ہوگا جس نے 2019 سے پہلے اپنے بااثر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی رقم دوسرے ملکوں میں منتقل کی یا اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے زیادہ منافع اور بونس حاصل کیا۔ ان تمام افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا جو یہ دعوی کر رہے ہیں کہ اس بل سے بنکوں پر بوجھ پڑے گا وہ درست نہیں ہیں۔ اس بل سے معاشی بہتری آئے گی اور معاشی ابتری میں کردار ادا کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔
ان کے مطابق اس مسودہ قانون کی بین الاقوامی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' نے بھی نگرانی کی ہے اور اس میں چھوٹے بنک کھاتہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔