ایران میں خراب معاشی اور معاشرتی حالات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے دسویں روز میں داخل ہوگئے ہیں، اس دوران متعدد اعلیٰ حکام کی جانب سے ان مظاہروں کو استعمال کرنے اور بدامنی پھیلانے کے خدشات پر سخت انتباہات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے احتجاج کے غلط استعمال سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کی افراتفری پر سختی سے نمٹے گی۔
منگل کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ یہ احتجاج بجا اور حق پر مبنی ہیں اور پارلیمنٹ اور حکومت کا ان کی بات سننا ایک جائز حق ہے۔
تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ تاجروں کے مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب بیرونی سطح پر ایسی سرگرمیاں بھی جاری تھیں جن کا مقصد اندرونی حالات سے فائدہ اٹھانا تھا۔ انہوں نے بعض بیرونی عناصر پر الزام عائد کیا کہ وہ ان احتجاج کو استعمال کرکے منظم انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے شعور اور عوام کی بڑی تعداد کے شریک نہ ہونے کی وجہ سے یہ احتجاج بڑے پیمانے پر پھیل نہ سکے۔
حکومت پر تنقید
اسی تناظر میں ابراہیم عزیزی نے زور دیا کہ عوام کی اکثریت کا احتجاج میں شریک نہ ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ بعض حکام کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے غلط پالیسیوں اور نااہل انتظامی ڈھانچوں کی اصلاح کا مطالبہ کیا، خصوصاً ان شعبوں میں جو براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی اور معیشت سے جڑے ہیں۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کریں جو کشیدگی کو ہوا دیں یا سیاسی تقسیم کو گہرا کریں اور اس بات پر زور دیا کہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار حکام اور اداروں کا احتساب ضروری ہے۔
ریڈ لائن
دوسری جانب ایرانی مجلس دفاع کی سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں ملک کے خلاف دھمکی آمیز اور مداخلت پسند بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ بیان بالواسطہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں کی طرف اشارہ تھا جن میں انہوں نے مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی بات کی تھی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے کسی صورت عبور نہیں کیا جاسکتا اور کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ رویے کا مناسب، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے نقل کی۔
احتجاجات کا آغاز نو روز قبل تاجروں اور دکانداروں سے ہوا تھا جو بعد ازاں یونیورسٹی طلبہ اور بڑے شہروں تک پھیل گئے۔ بعض مظاہرین نے ایران کے حکمرانوں کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
یہ احتجاجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مارچ 2025ء میں شروع ہونے والے مالی سال کے بعد سے ملک میں مہنگائی کی شرح 36 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ایرانی ریال اپنی قدر کا تقریباً نصف ڈالر کے مقابلے میں کھو چکا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید یہ کہ مظاہرے اس پس منظر میں ہوئے ہیں کہ ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ عائد کی گئی ہیں، جبکہ حکومت کو ملک بھر میں پانی اور بجلی کی فراہمی کے حوالے سے بھی سنگین مسائل درپیش ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے سنہ 2026ء میں معاشی جمود کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
ادھر کرد تنظیم ہنگاو برائے انسانی حقوق کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 40 کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
-
ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری، عدلیہ کی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات
احتجاج کا حق تسلیم مگر بدامنی پر کوئی نرمی نہیں ہوگی،حکام، مظاہرین پر اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
ایران کو بیلیسٹک میزائل پروگرام بحال نہیں کرنے دیں گے : نیتن یاہو کا کھلا اعلان
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم میں سے ایک کا اظہار پیر ...
مشرق وسطی -
امریکی آشیرباد کے سائے تلے ... اسرائیل "ایران کی بڑی غلطی" کا منتظر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف دی جانے والی بار بار ...
مشرق وسطی