ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری، عدلیہ کی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات
احتجاج کا حق تسلیم مگر بدامنی پر کوئی نرمی نہیں ہوگی،حکام، مظاہرین پر اسرائیلی حمایت کا الزام
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے اعلان کیا ہے کہ عدالتی نظام ان عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا جنہیں انہوں نے شرپسند قرار دیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے معاشی مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کے حق کو جائز تسلیم کیا۔ یہ بیان ملک میں جاری مظاہروں کے آٹھویں دن سامنے آیا ہے۔
ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے ’میزان‘ کے مطابق غلام حسین محسنی ایجئی نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر کے پراسیکیوٹر جنرلز اور سرکاری وکلا کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو بدامنی پھیلا رہے ہیں یا شرپسندوں کو سہولتیں اور سامان فراہم کر رہے ہیں۔ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا مصالحت نہ برتی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام مظاہرین اور ناقدین کی آواز سنتا ہے، جن کے خدشات بعض اوقات درست اور جائز ہوتے ہیں، مگر ایسے عناصر کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جائے گا جو اس فضا کو استعمال کر کے افراتفری پھیلانا اور ملک اور عوام کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
اسی تناظر میں ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے داخلی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ردعمل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایرانی عوام کی آزادی کی خواہشات سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ایسی ہر کوشش سے ہوشیار ہے جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا ہو اور اس حوالے سے چوکنا رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ بنجمن نیتن یاھو اور بعض انتہا پسند امریکی حکام کے بیانات دراصل تشدد پر اکسانے کے مترادف ہیں۔
ادھر ایران میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان نئے تصادم بھی سامنے آئے ہیں، جن میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی میڈیا کے مطابق یہ مظاہرے خراب معاشی حالات کے خلاف عوامی غصے کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے۔
امریکہ میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ نے بتایا کہ رات کے وقت تہران، جنوبی شہر شیراز اور مغربی ایران کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے، جہاں مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں کے کلاف شدید نعرے بازی کی۔
یہ احتجاجات ایران میں ستمبر 2022ء کے بعد سب سے نمایاں سمجھے جا رہے ہیں۔ حالیہ مظاہرے زیادہ تر مغربی ایران کے ان علاقوں میں دیکھے گئے ہیں جہاں کرد اور لور اقلیتوں کی بڑی آبادی ہے۔ تاہم یہ ابھی اس شدت تک نہیں پہنچے جو اواخر 2022ء میں دیکھنے میں آئی تھی اور نہ ہی ان کا موازنہ سنہ 2009ء کی گرین موومنٹ یا سنہ 2019ء کے ملک گیر احتجاجات سے کیا جا سکتا ہے۔
اس کے باوجود یہ صورتحال ایرانی حکام کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سپریم لیڈر علی خامنہ ای سنہ 1989ء سے اقتدار میں ہیں اور حال ہی میں ایران کو اسرائیل کے ساتھ جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کا سامنا رہا، جس کے دوران جوہری اور عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری اہداف کو بھی نقصان پہنچا اور سکیورٹی اشرافیہ کی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں۔
-
امریکی صدر کی وینزویلا کے معاملات چلانے کی تصدیق... ایران، کیوبا اور کولمبیا کو دھمکی
وینزویلا میں مناسب وقت پر انتخابات کرائیں گے : ٹرمپ
بين الاقوامى -
مادورو کی گرفتاری، ایران کی وینزویلا سے اپنی سرمایہ کاری کے مطالبات کی پیروی کی تصدیق
ایران ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران وینزویلا میں ...
بين الاقوامى -
'میں مزید نہیں چل سکتا': ایران جاتے ہوئے افغان شہری ٹھٹھر کر مرنے لگے
سخت سردی، بیروزگاری، معاشی مشکلات سے افغان مزید تباہ کن حالات سے دوچار
بين الاقوامى