اسرائیلی فوج نے پیر کے روز لبنان میں ایک بار پھر بمباری کی ہے۔ اس تازہ بمباری میں جنوبی لبنان کے علاوہ مشرقی لبنان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے انتباہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ اور حماس کے مراکز کو ہر جگہ نشانہ بنائے گا۔ یہ تازہ بمباری جو اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ماہ دسمبر میں ہونے والی ایک سٹریٹجک نوعیت کی ملاقات کے بعد ہوئی اس میں اسرائیلی فوج نے چار لبنانی دیہات کو بموں کی زد پر لیا ہے۔
نئے سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل ریاست نے لبنانی عوام کو اپنے گھروں اور دیہات سے نکل جانے کا انتباہ کیا ہے اور بمباری کی ہے۔ یاد رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان آخری جنگ بندی معاہدہ 27 نومبر 2024 سے چل رہا ہے ۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی قبضے اور بمباری کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے ایک فوٹو گرافر نے تازہ بمباری کے حوالے سے کفر ہٹا کے علاقے میں تباہی دیکھی جسے اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا۔
یہ گاؤں جنوبی لبنان میں واقع ہے۔ بمباری کی وجہ سے درجنوں لبنانی خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرکے جانا پڑا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق انہیں گاؤں سے نکل جانے کے حکم کے ساتھ ہی اسرائیلی ڈرون طیاروں کی علاقے میں نقل و حرکت دیکھی جانے لگی۔
جبکہ اس خدشے کے پیش نظر لبنانی حکام نے آگ بجھانے والی گاڑیوں کو الرٹ کر کے علاقے میں بھیج دیا تھا۔ تاکہ اسرائیلی حملوں کے بعد جہاں ضروری ہو فائر فائٹنگ کی جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا اصل ہدف لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور اس کی اتحادی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس تھی۔ لبنان کے خبر رساں ادارے نے بعد ازاں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے چار مختلف دیہات پر حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان شعبے نے دو مختلف پوسٹوں میں لکھا ہے کہ جن دیہاتوں کو بمباری کر کے نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کفر ہٹا اور عنان شامل ہیں۔ ان دونوں دیہات کا جنوبی لبنان سے تعلق ہے۔ جبکہ مشرقی لبنان کے علاقے المنارہ اور عین التینہ پر بمباری کی گئی ہے۔
اسرائیل ترجمان نے مزید کہا حزب اللہ کے اہداف کو کفر ہٹا میں نشانہ بناتی رہے گی۔ جبکہ مشرقی لبنان کے علاقوں میں حماس کے اہدف نشانے پر ہوں گے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی المنارا کے مطابق جس جگہ کو اسرائیلی بمباری میں نشانہ بنایا گیا ہے وہ جگہ 2024 میں ہلاک کر دیے گئے ایک حماس رہنما سے متعلق تھی۔ یہ حماس رہنما بھی اسرائیلی فوج کی بمباری سے ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اسرائیلی فوج نے اس کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور 27 نومبر کی جنگ بندی بھی اسرائیل کے آڑے نہیں آرہی ہے۔ بلکہ متواتر اسرائیلی فوج بمباری اور ڈرون حملے کررہی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سرحد سے دس کلومیٹر تک کے علاقے میں ہوئی ہیں۔
دوماہ قبل نومبر 2025 میں ایسی ہی بمباری کر کے اسرائیلی فوج نے 13 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
یہ بمباری اس کے باوجود جاری ہے کہ لبنانی حکومت امریکی دباؤ کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مہم کو تیز کر چکی ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ سال 2025 کے اختتام تک لبنانی فوج حزب اللہ سے دریائے لیطانی کا علاقہ تیس کلومٹر تک کا جنوبی علاقہ خالی کرائے اور اسے غیر مسلح کر دے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے پیر کے روز کہا ہے کہ لبنانی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مہم ابھی مکمل ہونے سے بہت دور ہے۔
ادھر لبنانی کابینہ جمعرات کے روز اس معاملے کا جائزہ لینے والی ہے کہ حزب اللہ سے اسلحہ چھیننے کی مہم کس حد تک کامیاب ہو سکی۔ اسی طرح اسی ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی مانیٹرنگ پر مامور کمیٹی کے امریکی و فرانسیسی ارکان کے علاوہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے احکام بھی اپنا اجلاس کرنے والے ہیں۔