ایران : احتجاج کی تازہ لہر کے دوران کم از کم 25 افراد ہلاک ، انسانی حقوق گروپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران میں احتجاجی صورتحال کو مانیٹر کرنے والے انسانی حقوق گروپوں نے اطلاع دی ہے کہ احتجاج کے پہلے 9 دنوں میں اب تک کم از کم 25 ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

احتجاج کا یہ سلسلہ 28 دسمبر سے تہران شہر کے دکانوں اور بازاروں سے شروع ہوا تھا۔ تاجر اور دکاندار اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ ایرانی ریال کی قدر بہت گر گئی ہے۔ جس سے افراط زر اور مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران جس پر امریکہ و یورپی ملکوں نے اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے سخت اقتصادی پابندیاں سالہا سال سے لگا رکھی ہیں اس کی کرنسی کی قدر کا کم ہونا فطری عمل ہے۔ جس نے پورے ملک میں مہنگائی کی غیر معمولی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

ان مظاہرین کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اظہار یکجہتی اس طرح کیا ہے کہ ایران کو دھمکی دی ہے اگر مظاہرین کی ہلاکتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مظاہرین کی مدد کے لیے آئے گا۔

تاہم کسی بھی ملک نے ایرانی عوام کی اس بری حالت اور کرنسی کی قدر کی گراوٹ کے باوجود ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

تہران اور بعض دیگر شہروں سے شروع ہونے والے تاجروں اور دکانداروں کے اس احتجاج کے بعد اب یہ احتجاج تیزی سے پھیل رہا ہے اور معاشی بدحالی کے خلاف عوامی فرسٹریشن کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہے۔

بعض جگہوں پر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ایرانی رجیم کے خلاف بھی نعرے بازی سامنے آرہی ہے جو اس امر کا اشارہ ہے کہ معاشی پابندیوں سے تنگ آئے تاجر اور دکاندار اب اسے سیاسی رخ دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے بعد جاری ملک میں معاشی بدحالی سے تنگ آئے تاجر مظاہرین میں سے ایک ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت پر اس صورتحال میں سخت دباؤ کی کیفیت ہے۔ اندرونی دباؤ کے علاوہ بیرونی دباؤ میں بھی سخت دباؤ آرہا ہے۔ امریکی صدر نے جمعہ کے روز دھمکی دی تھی اگر ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر گولی چلائی تو امریکہ مظاہرین کی مدد کو آئے گا۔

اس کے جواب میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ دشمن کی خواہش پوری نہ ہو سکے گی۔

ایرانی کردوں کے ایک انسانی حقوق گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے 4 نو عمر لڑکوں سمیت اب تک مجموعی طور پر کم از کم 25 افراد ان مظاہروں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایک ہزار سے زائد کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔

ہرانا نامی ایک انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے اب تک کم از کم 29 ایرانی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ اس ادارے کے مطابق ان 29 ہلاک ہونے والوں میں 2 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 1203 گرفتاریاں 5 جنوری 2026 تک ہو چکی تھیں۔

ایرانی پولیس کے سربراہ احمد رضا کے میڈیا میں آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین اور فسادیوں میں فرق رکھا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے فسادیوں کے ساتھ سختی سے نمٹ رہے ہیں اور انہیں گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔ گرفتاریوں میں ایسے لوگوں پر فوکس کیا جا رہا ہے جن کی انٹیلی جنس ادارے بھی تصدیق کر ریے ہیں۔

پولیس چیف نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ان فسادیوں کا آخر وقت تک مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی جو باہر کی دنیا سے دھوکہ کھا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایران کی شناخت کے ساتھ رکھیں جو عظیم تر ہے۔

حکومت نے لوگوں کی قوت خرید کو بہتر کرنے کے لیے اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بات مظاہرین کو احتجاج کے دوران بتائی گئی جب مظاہرین معاشی موضوعات سے ہٹ کر حکومت پر تنقید کر رہے تھے اور ان کے مطالبات معیشت سے ہٹ کر سیاست کے حوالے سے سامنے آنے لگے تھے۔ اب تک ایران کے 31 صوبوں میں سے 27 صوبوں کے چھوٹے شہروں تک احتجاج پھیل گیا ہے۔

ایرانی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں معاشی مشکلات غیر معمولی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ان گروپوں کو الزام دیتے ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ منسلک ہیں اور غیر ملکی اشاروں پر کام کرتے ہوئے عوام کو احتجاج کی طرف لا کر ملک میں بد امنی اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے کہا ایسے لوگوں کے لیے کوئی رحم نہیں ہو سکتا۔

صدر مسعود پیزشکیان اس سے پہلے ہی مظاہرین کو بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں اور یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے وہ اصلاحات لانے کو تیار ہیں۔ حتیٰ کہ لوگوں کی قوت خرید بہتر ہو سکے۔

حکومت نے بعض پہلوؤں سے سبسڈی پر مبنی اصلاحات کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاکہ افراط زر کے بڑھنے اور ایرانی ریال کی قیمت گرجانے کے باعث پیدا شدہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ اس سلسلے میں اقدامات کا عملی نفاذ 10 جنوری سے کیا جا رہا ہے۔

29 دسمبر کو ایرانی حکومت نے مرکزی بنک کے سربراہ کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جبکہ احتجاج کے دوران ریال کی قیمت میں مزید کمی ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں