کروڑوں لوگ آسمان پر آج رات گھٹتے چاند کا قلب الاسد کے ساتھ نظا رہ دیکھنے کے لیے بےتاب
نایاب فلکیاتی منظر آج منگل کو محض آنکھ سے دیکھا جاسکے گا
مصر اور عرب دنیا کے آسمان پر آج منگل 6 جنوری سنہ 2026ء کی شام ایک خوبصورت فلکیاتی منظر دیکھا جائے گا جسے بآسانی مجرد آنکھ سے دیکھا جاسکے گا۔ اس موقع پر گھٹتا ہوا ابھرا ہوا چاند برج اسد کے سب سے روشن ستارے قلب الاسد کے قریب دکھائی دے گا جو آسمان میں ایک دل موہ لینے والا منظر پیش کرے گا۔
جدہ فلکیاتی انجمن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اقتران سے مراد آسمان میں چاند اور ستارے کا بظاہر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دینا ہے حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان فاصلہ انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔ چاند زمین سے اوسطاً تین لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ قلب الاسد تقریباً اناسی نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔
جدہ فلکیاتی انجمن کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ قلب الاسد پہلی قدر کے روشن ترین ستاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ نیلگوں سفید رنگ کا ستارہ ہے جو طیفی درجہ بندی بی سیون سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا وزن سورج سے تقریباً ساڑھے تین گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی روشنی سورج سے تین سو گنا سے زائد ہے۔ یہ ستارہ اپنی محور کے گرد نہایت تیزی سے گردش کرتا ہے جس کے باعث خط استوا پر قدرے پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ قلب الاسد کی فلکیاتی اہمیت کی ایک بڑی وجہ سورج کے ظاہری سالانہ راستے یعنی دائرہ البروج کے قریب اس کا واقع ہونا ہے۔ یہی وہ مدار ہے جس پر سورج چاند اور سیارے حرکت کرتے ہیں اسی لیے سال بھر میں چاند کا اس ستارے کے ساتھ بار بار اقتران ہوتا رہتا ہے۔
کبھی کبھار نایاب مواقع پر احتجاب کا منظر بھی پیدا ہوسکتا ہے جب چاند ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے اور مخصوص جغرافیائی علاقوں میں اسے عارضی طور پر اوجھل کردیتا ہے۔ ابو زہرہ نے اس ستارے کے تاریخی اور ثقافتی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قدیم تہذیبوں میں قلب الاسد کو خاص مقام حاصل تھا اور اسے طاقت حکمرانی اور جرات کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
شاہی ستارہ
یونانیوں نے اسے شاہی ستارہ کا نام دیا جبکہ عربوں نے برج اسد کے سینے میں واقع ہونے کی وجہ سے اسے قلب الاسد کہا ہے۔ بعض قدیم تہذیبیں چاند یا سیاروں کے ساتھ اس کے اقتران کو بڑے واقعات کی علامت سمجھتی تھیں تاہم یہ تعبیرات علامتی اور تاریخی تھیں جن کی جدید فلکیات میں کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔
فلکیات میں قلب الاسد کو الف الاسد بھی کہا جاتا ہے اور یہ برج اسد میں منجل کی شکل بنانے والے ستاروں میں سب سے نمایاں ہے۔ پانچ قریبی ستاروں کے ساتھ مل کر یہ منجل جیسا نقش بناتا ہے جس کا سرا یا دستہ قلب الاسد ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ برج کی پہچان میں نہایت مددگار ہے۔
اس اقتران کے دوران گھٹتا ہوا ابھرا ہوا چاند قلب الاسد کے قریب روشن دکھائی دے گا اور یہ منظر روشنی کی آلودگی سے دور علاقوں میں خاص طور پر واضح ہوگا۔
فلکیاتی دوربین یا چھوٹے ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ستارے کی چمک اور اس کے رنگ کا فرق چاند کی روشنی کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگا جس سے مشاہدے کا تجربہ مزید دلچسپ اور سائنسی بن جائے گا۔
ابو زہرہ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اس نوعیت کے فلکیاتی مظاہر فلکیات کے شوقین افراد کے لیے تعلیمی مواقع فراہم کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے چاند کی مداری حرکت اور ستاروں کے مقابلے میں اس کی روزانہ بدلتی ہوئی پوزیشن کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے جو رصدی فلکیات کی بنیادی اساس ہے۔
اگرچہ سائنسی اعتبار سے چاند اور قلب الاسد کا اقتران نسبتاً بار بار ہونے والا مظہر ہے مگر اس کے باوجود یہ ایک حسین آسمانی منظر ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے اور کائنات کے منظم قوانین کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔
-
مصر میں 35 ملین سال پرانے درختوں کی کٹائی پر تنازعہ، حکومت کی وضاحت
وزارت ماحولیات کا درختوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا اعلان
مشرق وسطی -
مصر کے آسمان پر چاند اور مشتری کا غیر معمولی ملاپ
''بدر کامل'' یا'' سپر مون ''اس وقت کہلاتا ہے ،جب مکمل چاند (بدر) زمین کے مدار میں ...
بين الاقوامى -
مصر نے حج ویزے کے حصول کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا
سیاحتی حج ویزہ کے لیے صحت کی استطاعت کا سرٹیفکیٹ بنیادی تقاضا قرار
بين الاقوامى