شام کی مدد کے لیے تیار ہیں ... حلب میں جھڑپوں کے بعد ترکیہ کا اعلان

حکومتی افواج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ چند دنوں کے دوران شدید لڑائی چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ نے کہا ہے کہ اگر اس سے درخواست کی گئی تو وہ شام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شامی فوج نے حلب میں ’’دہشت گردی کے خلاف‘‘ ایک خود مختار کارروائی شروع کی۔ یہاں گذشتہ چند دنوں کے دوران حکومتی افواج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ترک وزارت دفاع نے آج جمعرت کے روز ایک بریفنگ میں کہا کہ حلب میں کی گئی کارروائی ’’مکمل طور پر شامی فوج نے انجام دی‘‘۔ بیان کا مقصد اس میں ترکیہ کی عدم شمولیت واضح کرنا تھا۔

شمالی شام میں واقع اس شہر میں منگل اور بدھ کے روز ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ہزاروں شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی ثالثی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

انقرہ دمشق میں قائم عبوری انتظامیہ کا سب سے مضبوط غیر ملکی حامی سمجھا جاتا ہے اور شمالی شام میں اس کی نمایاں فوجی موجودگی بھی ہے۔

وزارت دفاع نے کہا ’’اگر شام نے مدد طلب کی تو ترکی ضروری تعاون فراہم کرے گا۔‘‘

جھڑپوں اور دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر آغازِ تصادم کے الزامات نے دمشق اور کرد انتظامیہ کے درمیان جمود کی کیفیت کے مزید گہرے ہونے اور تنازع کے شدت اختیار کرنے کی نشان دہی کی ہے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب انہیں مرکزی حکومت میں ضم کرنے سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ترکیہ کرد جنگجوؤں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ شامی حکام کے ساتھ انضمام نہیں کرتے تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قورتولموش نے انقرہ میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک علیحدہ بیان میں کہا ’’ہم شام میں ہونے والی پیش رفت پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صورتحال انتہائی نازک ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ہم حلب میں جھڑپوں کے فوری خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں