شام: حلب کے 7 محلوں میں کرفیو نافذ، سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں اختلافات کی خبریں
شہر کے مرکز میں انسانی راہداریوں اور سویلین علاقوں کے نواح میں 10 افراد جاں بحق، 88 زخمی
شامی حکام نے حلب کے سات محلوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا۔ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان مسلسل تیسرے دن بھاری ہتھیاروں سے شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ شامی فوج نے حلب کے علاقوں الاشرفیہ اور بنی زید کے تمام باسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھڑکیوں کے قریب نہ جائیں اور فوری طور پر ہر عمارت کی نچلی منزلوں پر چلے جائیں۔
دوسری جانب حلب کے گورنر عزام الغریب نے اعلان کیا ہے کہ داخلی امن فورسز شمالی شام کے شہر حلب کے علاقوں شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ گورنر عزام الغریب نے حلب گورنری کی عمارت میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موصول اطلاعات کے مطابق شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے محلوں میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے ارکان کی بڑی تعداد میں اختلاف اور ایک دوسرے حصے کے فرار ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
یہ پیش رفت ان علاقوں میں ایک اہم فیلڈ کی تبدیلی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ اب داخلی امن فورسز مذکورہ محلوں کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ ان محلوں کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور بے گھر ہونے والے باسیوں کی اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حلب کے گورنر نے شہرِ حلب کے محلوں کے مکینوں سے مکمل طور پر ہدایات پر عمل کرنے اور سکیورٹی آپریشنز کے خاتمے تک واپسی میں جلدی نہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ واپسی کا عمل باضابطہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ یہ نوٹیفکیشنز منظور شدہ پلیٹ فارمز پر شائع کیے جائیں گے۔
دوسری طرف سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے کمانڈر مظلوم عبدی نے خبردار کیا ہے کہ حلب شہر میں لڑائی کا جاری رہنا حکومت کے ساتھ مفاہمت کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ وارننگ فریقین کے درمیان دو دن کی شدید جھڑپوں، جن میں کئی لوگ مارے جا چکے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ عبدی نے ایک بیان میں کہا کہ لڑائی کے طرزِ عمل اور جنگ کی زبان کا تسلسل مفاہمت تک پہنچنے کے مواقع کو ختم کر رہا ہے اور خطرناک آبادیاتی تبدیلیوں کے لیے حالات سازگار بنا رہا ہے۔
اسی تناظر میں حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے آج حلب کے مرکز میں انسانی راہداریوں اور سویلین علاقوں کے نواح پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں 10 اموات اور 88 افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے باسیوں کی نقل مکانی کی تحریک کے ابتدائی گھنٹوں سے ہی شیخ مقصود، الاشرفیہ اور متعدد قریبی محلوں سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ایمرجنسی پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اب تک تقریباً 1 لاکھ 42 ہزار بے گھر افراد موصول ہوئے ہیں جن میں سے 13 ہزار آج دوپہر ایک بجے تک آئے ہیں جہاں 80 ٹرانسپورٹ گاڑیاں روانہ کی گئیں اور 12 عارضی پناہ گاہیں کھولی گئیں۔ ان پناہ گاہوں میں سے 10 شہرِ حلب کے اندر اور دو اعزاز اور عفرین کے علاقوں میں ہیں۔ لوگوں کی آمد اب بھی جاری ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ انخلا کے آپریشنز کے دوران "ایس ڈی ایف" نے حلب کے مرکز میں انسانی راہداریوں کے نواح اور سویلین علاقوں پر متعدد گولے برسائے جس کے نتیجے میں 10 اموات ہوئیں اور 88 افراد زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق کمیٹی نے ہر شہری کی نقل و حرکت کی آزادی اور منزل کے انتخاب کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے انخلا کو منظم اور آسان بنانے کے لیے کام کیا۔ حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے اور متعلقہ و منظور شدہ حکام کے ساتھ رابطے میں رہنے کی اپیل کی ہے تاکہ عوامی تحفظ اور ہنگامی امداد کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
-
شام کی مدد کے لیے تیار ہیں ... حلب میں جھڑپوں کے بعد ترکیہ کا اعلان
حکومتی افواج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ چند دنوں کے دوران شدید لڑائی چھڑ ...
مشرق وسطی -
شام نے حلب میں شہریوں کو محفوظ علاقوں تک نکالنے کے لیے دو انسانی راہداریاں دوبارہ کھول دیں
حلب کے مقامی ذرائع کے مطابق شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے محلوں میں تقریباً ایک لاکھ ...
مشرق وسطی -
سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا بیان غلط، حلب کی سکیورٹی ہماری ذمہ داری: شامی حکومت
شامی حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ حلب شہر کے حالات، بالخصوص شیخ مقصود اور الاشرفیہ ...
مشرق وسطی