ایران جنگ اور بات چیت دونوں کے لیے تیار ہے... عراقچی نے خبردار کر دیا

وزیر خارجہ کے مطابق "مظاہروں میں مرنے والے زیادہ تر افراد پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران میں عوامی احتجاج سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ اور مذاکرات، دونوں کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا "جب سے ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دی ہے، احتجاجات کو مداخلت کا جواز فراہم کرنے کے لیے خون ریز تشدد میں بدل دیا گیا ہے"۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے بتائی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ "امریکی صدر کے بیانات ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں"۔ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل دونوں پر حالات کو مزید بھڑکانے کا الزام عائد کیا۔

عراقچی نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ایرانی حکام کے پاس ایسے ممالک کے بارے میں معلومات موجود ہیں جہاں ان احتجاجات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "مسلح دہشت گرد گروہ مظاہرین کی صفوں میں داخل ہو چکے ہیں"۔

عراقچی نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس اس بات کے "ثبوت موجود ہیں کہ سکیورٹی فورسز پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی، تاکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے"۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ "دہشت گردوں کو بیرونی عناصر کی جانب سے احتجاجات کو بھڑکانے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی ہے"۔ انھوں نے دعوی کیا کہ "موساد کے عناصر بھی تشدد کو ہوا دینے کے لیے احتجاجات میں شریک ہیں"۔

عراقچی کے مطابق "زیادہ تر افراد جو مظاہروں کے دوران مارے گئے، انہیں پیچھے سے گولی ماری گئی"۔

انہوں نے زور دیا کہ "احتجاجات ایک پر تشدد رخ اختیار کر چکے ہیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان سے تحمل کے ساتھ نمٹا"۔
عراقچی کے مطابق "حکومت نے احتجاجات سے متعلق فریقین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت نے کچھ اقدامات اور اصلاحات بھی اختیار کی ہیں جن پر عمل درآمد کیا جائے گا"۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ اعلان کیا کہ سفارت خانوں اور وزارتوں میں انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں صورتحال مکمل طور پر پرسکون اور مستحکم ہو چکی ہے۔

اسی دوران "نیٹ بلاکس" نے اطلاع دی ہے کہ ایران کے اندر گذشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ معطل ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ وہ کاروباری شخصیت ایلون مسک سے ایران میں سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے کے حوالے سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام نے حکومت مخالف احتجاجات کے جاری رہنے کے باعث تقریباً چار روز قبل انٹرنیٹ کی بندش کر دی تھی۔

امریکی صدر نے فوجی آپشن کا بھی عندیہ دیا، اور کہا کہ "فوج اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے"۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے ان کی دھمکیوں کے بعد امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور مذاکرات کی تجویز دی ہے۔

اس کے مقابلے میں ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر کوئی حملہ کیا تو اس کا جواب خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔

یہ بیانات اور باہمی دھمکیاں ایسے وقت سامنے آ رہی ہیں جب ایران میں 28 دسمبر سے بگڑتی ہوئی معاشی اور سماجی صورتحال کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجات جاری ہیں، جو بعد ازاں موجودہ نظام کے خلاف سیاسی مظاہروں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں