جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرز نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے استعمال کو ایران کی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف جبر و تشدد سے کام لے رہی ہے اور حد سے بڑھ کر طاقت کا استعمال کر رہی ہے جو درحقیقت ایران کی کمزوری کا اظہار ہے۔
چانسلر نے کہا ہم اس جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ہر اس طریقے سے مذمت کرتے ہیں جو بھی اس کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بھارتی دورے کے موقع پر کیا اور کہا تشدد کا راستہ اختیار کرنا قوت کا اظہار نہیں ہوتا۔ بلکہ کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔
جرمن چانسلر نے زور دے کر کہا کہ اس ایرانی تشدد کو لازما ختم ہونا چاہیے۔ ادھر برلن میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کور کو یورپی یونین دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ایرانی رجیم پر پابندیاں عائد کرے۔
ترجمان نے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی مذمت کی جو مظاہرین کی سوشل میڈیا تک رسائی روکنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
جرمن ترجمان کا کہنا تھا یہ انٹرنیٹ کی بندش حقیقتا بنیادی حق آزادی اظہار اور اطلاعات پر بھی پابندی ہے۔ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اجتماع کریں یا احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں ۔ یہ انسانوں کا بنیادی و مسلمہ حق ہے۔
انہوں نے کہا ایسے تمام اقدامات جو انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے کیے جائیں گے، جرمنی ان کا خیر مقدم کرے گا۔
-
نیتن یاہو کی اپنے وزرا کو "ایران پر حملے" کے بارے میں بات نہ کرنے کی ہدایت
ایرانی ذمے داران یہ باور کرا چکے ہیں کہ اگر حملہ ہوا تو ان کا ملک امریکی فوجی اڈوں ...
مشرق وسطی -
ایران دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ، سپیکر کا تہران میں ریلی سے خطاب
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس ...
مشرق وسطی -
ایران کی جانب سے امریکی مداخلت پر تنقید ... تہران کی واشنگٹن کے ساتھ رابطے کی تصدیق
ایران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ امریکی جانب کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس سے قبل ...
مشرق وسطی