نیتن یاہو کی اپنے وزرا کو "ایران پر حملے" کے بارے میں بات نہ کرنے کی ہدایت

ایرانی ذمے داران یہ باور کرا چکے ہیں کہ اگر حملہ ہوا تو ان کا ملک امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے وزرا کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران میں ممکنہ غیر ملکی مداخلت کے بارے میں بات نہ کریں۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ یہ نئی ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئیں جب ایران پر ممکنہ فوری حملے کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، جبکہ ملک میں حکومت مخالف عوامی احتجاجات کے دباؤ کی رپورٹس بڑھ رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صدارتی طیارے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، اس سوال کے جواب میں کہ آیا تہران نے پہلے سے طے شدہ سرخ لکیر (احتجاج کرنے والوں کے قتل کو) عبور کر لیا ہے، کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ وہ اب یہ کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ "اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے" اور "کچھ بہت مضبوط آپشنز پر غور کر رہا ہے"۔ بعد ازاں ان کا کہنا تھا "ہم فیصلہ کریں گے۔"

ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ امریکی فوجی اور سفارتی حکام، منگل کو ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے دستیاب آپشنز کے بارے میں بریف کریں گے، جن میں ممکنہ فوجی کارروائی اور ہیکنگ/سائبر حملے شامل ہیں۔

اس کے جواب میں، ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرے تو وہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔

یہ قیاس آرائیاں پچھلے سال جون کے منظر کو یاد دلاتی ہیں، جب 10 جون کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر چھٹے دور کی بات چیت 14 جون کو مسقط میں ہوگی، جس سے پہلے پانچ دور ہو چکے تھے۔

لیکن 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے اندر اچانک حملے کیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر مسبوق جنگ شروع ہوئی۔

پھر 22 جون 2025 کو واشنگٹن نے "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" (Operation Midnight Hammer) شروع کیا، جس کا ہدف تین بڑے جوہری مراکز تھے: فوردو، نطنز اور اصفہان۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں