ایرانی وزیرِ خارجہ: مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

ٹرمپ پر زور: جون کی جنگ والی 'غلطی' نہ دہرائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کے بارے میں سوال پر کہا کہ ایران کا لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ نے فاکس نیوز کو "سپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر" شو میں ایک انٹرویو میں بتایا، "پھانسی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پھانسی کا سوال ہی نہیں ہے۔"

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس سوسائٹی کے مطابق ایرانی جیلوں میں پھانسی کی سزا عام ہے۔

مظاہرین کو پھانسی پر لٹکانے کے جواب میں منگل کو سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "انتہائی سخت کارروائی" کی دھمکی دی تھی لیکن انہوں نے اپنے تبصروں کی وضاحت نہیں کی۔ "اگر وہ پھانسی دیں تو آپ کو ضرور کچھ دیکھنے کو ملے گا،" ٹرمپ نے کہا۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایرانی ہلاکتیں کم ہونے لگی ہیں اور خیال ظاہر کیا کہ فی الحال وسیع پیمانے پر سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

ٹرمپ ایران کی صورتِ حال کے ردِ عمل پر غور کر رہے ہیں جسے کئی برسوں میں شدید ترین حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے۔

وہ ٹرمپ سے کیا کہیں گے، فاکس نیوز کے اس سوال پر عراقچی نے کہا: "وہی غلطی نہ دہرائیں جو آپ نے جون میں کی تھی۔"

"میرا پیغام ہے: جنگ اور سفارت کاری میں سے سفارت کاری ایک بہتر طریقہ ہے اگرچہ ہمیں امریکہ سے کوئی مثبت تجربہ نہیں ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی سفارت کاری جنگ سے بہت بہتر ہے۔"

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ HRANA نے کہا کہ اس نے اب تک 2,403 مظاہرین اور حکومت سے وابستہ 147 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ گروپ نے اب تک 18,137 گرفتاریوں کی بھی اطلاع دی ہے۔

ایران کی حکومت اقتصادی مشکلات کے لیے غیر ملکی پابندیوں کو ذمہ دار قرار دیتی اور الزام عائد کرتی ہے کہ اس کے غیر ملکی دشمن ملکی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں