ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی برّی فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت دشمن کے ساتھ ایک ہمہ جہت اور جامع جنگ لڑ رہا ہے جس میں روایتی فوجی پہلو کے علاوہ متعدد جہتیں شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں کے ساتھ ساتھ سائبر، سکیورٹی اور دفاعی میدانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو مستقل طور پر جدید بنانے اور تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔
کمانڈر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج، خدائی مدد اور ایرانی عوام کی حمایت کی بنیاد پر مکمل طاقت اور تیاری کی حامل ہیں۔ یہی چیزیں ایرانی افواج کو دشمن کی کسی بھی غلطی پر تباہ کن جواب دینے کے قابل بناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیاری کی موجودہ سطح بہت اچھی ہے۔ سب سے اہم عنصر مسلح افواج کی صفوں میں ہم آہنگی اور اتحاد ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ایرانی مسلح افواج اعلیٰ درجے کی تیاری اور وسیع تجربہ رکھتی ہیں جو اسی کی دہائی میں ایران کی آٹھ سالہ جنگ اور حالیہ "12 روزہ جنگ" سے حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیانات کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب سخت ہو گا۔
فیصلہ کن حملہ
ایک امریکی اہلکار، بات چیت سے واقف دو افراد اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ایک شخص کے مطابق ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی امریکی فوجی کارروائی حکومت کے لیے تیز رفتار اور فیصلہ کن ضرب ہو۔ یہ ایسی پائیدار جنگ نہ بن جائے جو ہفتوں یا مہینوں تک پھیلی رہے۔
امریکی نیٹ ورک "این بی سی" کے مطابق توقع ہے کہ امریکی صدر آج کسی وقت اس حوالے سے فیصلہ صادر کریں گے۔ واضح رہے ٹرمپ نے کل اشارہ کیا تھا کہ جیسا کہ انہیں بتایا گیا ہے ایرانی مظاہرین کا قتل رک گیا ہے۔ اس بیان کو ایرانی حکام کے حوالے سے ان کے موقف میں نرمی سمجھا گیا۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انہیں وہی غلطی نہ دہرانے کی تاکید کی جو انہوں نے گزشتہ جون میں کی تھی۔ ان کا اشارہ گزشتہ سال 2025 کے موسم گرما میں ایران کے اندر امریکہ کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی طرف تھا۔ عراقچی نے کہا کہ اسرائیل واشنگٹن کو جنگ کی طرف گھسیٹ رہا ہے۔
بڑے پیمانے پر احتجاج
ایران میں گزشتہ 28 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں جن کا آغاز معاشی اور معیشت سے متعلق نعروں سے ہوا تھا جن میں سے کچھ بعد میں حکمران حکام کے خلاف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز اور متعدد مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو حکام نے دہشت گرد قرار دیا جس کے نتیجے میں عراقچی کے مطابق سینکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے۔
-
امریکہ ایران پر حملے سے پیچھے نہیں ہٹا: اسرائیل
امریکہ نے اسرائیل کو مطلع کیا وہ رات کے وقت ایران پر حملہ کرے گا، پھر عمل روک دیا: ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب ، قطر اور اومان، ایران پر ممکنہ امریکی حملہ رکوانے میں کامیاب
ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں پورا خطہ شدید دھچکوں کی لپیٹ میں آجائے گا۔ ...
مشرق وسطی -
سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان خطے میں استحکام کے طریقوں پر بات چیت
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ...
مشرق وسطی