سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک پر رابطہ کیا۔ اس دوران خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا اور اس کے امن و استحکام کے لیے تعاون کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔
ادھر گذشتہ روز دو سعودی ذرائع نے خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کو بتایا کہ سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے نہ تو اپنی فضائی حدود اور نہ اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے تہران کو براہ راست یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ سعودی سرزمین یا فضائی حدود اس مقصد کے لیے استعمال ہوں گی۔
فرانسیسی ایجنسی کے مطابق سعودی بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران میں عوامی احتجاج میں شدت آ رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے انتباہات بھی دیے جا رہے ہیں۔
-
سعودی وزیر دفاع اور یمنی صدر کی جنوبی مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
سعودی عرب کا یمن کی تعمیر نو کے منصوبے بحالی میں کلیدی کردار ہے: رشاد العلیمی
مشرق وسطی -
امریکا-ایران کشیدگی، ریاض نے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے: سینئر سعودی سفارت کار
ایک اعلیٰ سعودی سفارت کار نے بدھ کو کہا کہ ریاض امریکہ اور ایران کے مابین فوجی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا سوڈان میں بیرونی مداخلت روکنے کی ضرورت پر زور
اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ متوازی حکومت کی تشکیل ایک مسترد شدہ امر ہے
مشرق وسطی