اسرائیل اور لبنان کے درمیان 27 نومبر 2024 سے چلے آرہے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کی طرف سے لبنان میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعہ کے روز بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں بمباری کر کے ایک لبنانی شہری کو ہلاک کر دیا ہے۔ لبنانی وزارت صحت نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ایک روز قبل بھی اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی تھیں اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ارکان اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
لبنانی وذارت صحت نے جمعہ کے روز کی اسرائیلی بمباری کے بعد جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا دشمن نے جنوبی لبنان کے علاقے منصوری میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ جس کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ہی پچھلی رات بمباری کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔
جمعرات کے روز اسرائیل کی طرف سے بمباری کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے ایک رکن کو ہلاک کیا ہے۔ جو علاقے میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو نئے سرے سے قائم کرنے کے لیے کوشاں تھا۔
یاد رہے ایک ہفتہ قبل لبنان کی فوج نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا اپنا ہدف مکمل کر لیا ہے اور دریائے لیطانی کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کا اب کوئی مسلح اہلکار موجود نہیں ہے۔
تاہم اسرائیل نے اس کے باوجود لبنان کی طرف سے کی گئی کوششوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔
جمعرات ہی کے روز اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی کے شمال میں اور بیکا ریجن میں انخلاء کا انتباہ جاری کرتے ہوئے بمباری کی تھی۔
جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں اقوام متحدہ کے تعینات امن سپاہیوں نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی ڈرون طیارے نے امن سپاہیوں پر بھی ڈرون کے ذریعے گرینیڈ پھینکا۔
اس سے قبل پیر کے روز اس امن فورس نے اسرائیل کی طرف سے ٹینکوں کے ذریعے کی گئی گولہ باری کی شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ ہر روز ہونے والے اسرائیلی فوج کے یہ حملے امن فوج کے کام میں رخنہ ڈالنے کا سبب بن رہے ہیں۔