خامنہ ای نے ٹرمپ کو ایران میں جانی نقصان کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے مجرم قرار دیا
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ "اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ افراد نے احتجاج کے دوران شدید نقصان پہنچایا اور ہزاروں لوگوں کو قتل کیا".
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں، ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان اور ایرانیوں کی بد نامی کا ذمے دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔
آج ہفتے کے روز اپنے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے ملک میں جانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام پر لگائے گئے الزامات اور افترا پردازی کی بھی مذمت کی۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ اشتعال انگیزی اس لحاظ سے مختلف تھی کہ امریکی صدر اس میں ذاتی طور پر ملوث تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ملک میں حالیہ فتنے کے پیچھے کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ ان افراد نے احتجاج کے دوران شدید نقصان پہنچایا اور ہزاروں لوگوں کو قتل کیا۔
اسی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ حکام ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جائیں گے، لیکن وہ مقامی یا بین الاقوامی مجرموں کو سزا سے بچنے نہیں دیں گے۔ معاشی صورتحال کے حوالے سے خامنہ ای نے اعتراف کیا کہ حالات خراب ہیں اور شہریوں کو حقیقی مشکلات کا سامنا ہے۔
خامنہ ای حالیہ دنوں میں ایرانی احتجاج کی حمایت اور سرکاری اداروں پر قبضے کی حوصلہ افزائی کرنے پر کئی بار ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کو مطلق العنان قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اسی طرح گرٰں گے جیسے فرعون گرا تھا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے گذشتہ دنوں ایران کے خلاف فوجی آپشن کا اشارہ دیا اور خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز اور تباہ کن جہاز روانہ کیے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی واضح کیا تھا کہ تہران کے حوالے سے ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز کھلے ہیں۔
ما رئیسجمهور آمریکا را به دلیل تلفات، خسارات و تهمتی که به ملت ایران زد، مجرم میدانیم pic.twitter.com/JKwUH1qxtu
— KHAMENEI.IR | فارسی (@Khamenei_fa) January 17, 2026
تاہم امریکی بیانات کی شدت میں اس وقت کمی آئی جب ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو امریکی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے مطابق مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کی شام ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ زیر حراست مظاہرین کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
ایران میں گرتی ہوئی معاشی صورت حال اور مہنگائی کے خلاف 28 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا تھا، جو بعد میں موجودہ نظام کے خلاف سیاسی مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اسرائیل اور امریکہ پر ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔
-
غزہ پر بمباری جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کی: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ...
مشرق وسطی -
غزہ کی امن کونسل میں دو نمایاں صاحب ثروت شخصیات کون ہیں؟
غزہ کی پٹی سے متعلق معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس ...
مشرق وسطی -
غزہ آگ کے سائے میں... اسرائیلی حملوں نے فلسطینی پٹی کو لرزا دیا
اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح سویرے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملوں ...
مشرق وسطی