قاہرہ : دریائے نیل پر ڈیم تنازعے کے سلسلے میں ٹرمپ کی ثالثی پیشکش قابل تعریف ، السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اس پیشکش کا خیر مقمدم کیا ہے جو انہوں نے دریائے نیل پر ایتھوپیا کی طرف سے بنائے جانے والے ڈیم سے پیدا شدہ تنازعے کے لیے ثالثی کرانے کے لیے کی ہے۔

صدر السیسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ ٹرمپ کے خط سے مصر کے پانی کے مسئلے کے حوالے سے ٹرمپ کی تشویش ظاہر ہوئی ہے اور ہم اس کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔

یاد رہے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل پر ڈٰیم بنانے کے ایتھوپین منصوبے سے پیدا شدہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔ تاکہ دونوں کے درمیان ثالثی ہوجائے۔

خیال رہے اس ڈیم منصوبے پر مصر کے علاوہ سوڈان بھی تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ اس سے دونوں ملکوں کو پانی کی فراہمی نمایاں طور پر متاثر ہوگی۔

مصر ایک طویل عرصے سے دریائے نیل پر ایتھوپیا کے ڈیم منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اپنی پریشانی کا ذکر کرتا رہا ہے کہ اس سے مصر کے لیے پانی کی فراہمی پر زد پڑے گی اور جس سے مصر کی زراعت و صنعت دونوں متاثر ہوں گی۔ کیونکہ مصر کا پانی کے حوالے سے بڑا انحصار دریائے نیل پر ہے۔

مصر کے علاوہ جو ملک دریائے نیل کے پانی پر انحصار کرتا ہے وہ سوڈان ہے۔ سوڈان نے بھی ڈیم بنانے کے ایتھوپیا کے منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے سوڈان کے آبی منصوبوں کے علاوہ پانی کی فراہمی پر برا اثر پڑے گا۔

سوڈان کی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرھان نے بھی صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔

یاد رہے ایتھوپیا ایک کروڑ 20 لاکھ کی آبادی کا ملک ہے اور دریائے نیل پر 5 ارب ڈالر کی لاگت سے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تاکہ اپنے اقتصادی منصوبوں اور ضرورتوں کو بآسانی آگے بڑھا سکے۔ جبکہ ایتھوپیا اس سلسلسے میں مصری تشویش اور دعووں دونوں کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size