سعودی عرب کا نجی شعبہ زیادہ لچکدار اور زیادہ ہم آہنگ ہو گیا: آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بین الاقوامی مانیٹری فنڈ’آئی ایم ایف‘ کی سربراہ کرسٹالینا گورگیوا نے کہا ہے کہ سعودی نجی شعبہ اب زیادہ لچکدار اور ہم آہنگ ہو گیا ہے۔

گواورگیوا نے یہ بات سعودی ہاؤس کے اسٹریٹجک مینجمنٹ آفس کی جانب سے عالمی اقتصادی فورم 2026 کے موقع پر منعقدہ ایک مکالماتی نشست کے دوران کہی ۔ انہوں نے کہا کہ "میں سعودی اصلاحات کی بڑی مداح ہوں اور سعودی معیشت کا تنوع تمام شعبوں کو شامل کرتا ہے"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "مملکت اصلاحات کے نفاذ میں مستقل مزاجی کے لیے مشہور ہے، جنہوں نے نجی شعبے کی ترقی اور خوشحالی کو ممکن بنایا ہے۔ سعودی نجی شعبہ اب زیادہ لچکدار اور ہم آہنگ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر بڑے اتار چڑھاؤ کے باوجود کامیابیوں کا اصل ذریعہ رہا ہے۔"

عالمی مانیٹری فنڈ کی سربراہ نے کہاکہ "جب ہم مملکت میں اصلاحات کے دائرہ کار اور وسعت کو دیکھتے ہیں تو یہ انتہائی اثر انگیز ہیں۔ ہر شعبے میں ترقی کی جا رہی ہے اور ہر طرح کی کمپنیوں، چاہے وہ بڑی، درمیانے، چھوٹی یا انتہائی چھوٹی ہوں، کی معاونت کی جا رہی ہے"۔

گورگیوا نے مزید کہا کہ مملکت نے نوجوان سعودی مرد و خواتین کی حمایت کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا اور ان کی معیشت میں کردار کو بڑھایا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی معیشت کے تنوع کا منصوبہ تمام شعبوں پر محیط ہے، جس میں صنعت کو تیل و گیس سے دور کرتے ہوئے ترقی دینا، خدمات، مالی خدمات، کھیل اور سیاحت شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مملکت نے اپنی تجربہ کاری دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ’آئی ایم ایف‘ نے ریاض میں دفتر کھولا تاکہ سعودی تجربہ دنیا کے دیگر حصوں کے ساتھ بانٹا جا سکے، جبکہ سعودی معیشت ہر سطح پر نمایاں ترقی کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں