ترازو کبھی کبھی دھوکا دے جاتا ہے، بعض بیماریاں نارمل وزن کے باوجود لاحق ہو سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برسوں سے صحت کا پیمانہ سمجھے جانے والا باڈی ماس انڈیکس (BMI) بظاہر وزن اور قد کے حساب سے جسمانی حالت کا فیصلہ کرتا آیا ہے، مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ صرف ترازو پر نظر آنے والا وزن ہمیشہ اصل صحت کی عکاسی نہیں کرتا، کیونکہ کئی افراد نارمل وزن کے باوجود اندرونی طور پر خطرناک میٹابولک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جو خاموشی سے جسم کو نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔

سویڈن کی گوتھنبرگ یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ایک زیادہ درست پیمانہ متعارف کرایا گیا ہے، جسے میٹابولک باڈی ماس انڈیکس (MetBMI) کہا جاتا ہے۔ یہ پیمانہ محض قد اور وزن پر نہیں بلکہ جسم کے اندر موجود حیاتیاتی اشاریوں پر انحصار کرتا ہے، جو میٹابولزم کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس اشاریے کی بلند سطح ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل و میٹابولک امراض کے خطرے میں نمایاں اضافے سے منسلک ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ روایتی BMI اگرچہ حساب میں آسان ہے، لیکن یہ جسم میں چربی کے ذخیرہ ہونے کی جگہ چربی والے بافتوں کے توانائی کے استعمال کے طریقے اور خوراک کو توانائی میں بدلنے کی صلاحیت جیسے بنیادی عوامل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے دو افراد کا BMI ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر بیماریوں کے خطرات میں زمین آسمان کا فرق ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ریما چاکارون گوتھنبرگ یونیورسٹی میں اینڈوکرائنولوجی کی پروفیسر ہیں ،وہ کہتی ہیں کہMetBMI ایک ایسے پوشیدہ میٹابولک بگاڑ کو ظاہر کرتا ہے جو ہمیشہ وزن کے ترازو پر نظر نہیں آتا۔

ان کے مطابق میٹابولزم اور چربی کے بافتوں کے افعال میں فرق کسی نارمل وزن والے شخص کو بھی اُس فرد کے مقابلے میں زیادہ بیماریوں کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے جو زائد وزن رکھتا ہو۔

یہ تحقیق جو جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی 1408 افراد کے طبی ڈیٹا اور خون کے نمونوں کے تجزیے پر مبنی تھی۔ اس کے ذریعے ایک الگورتھم تیار کیا گیا جو خون میں موجود میٹابولک اجزا کی بنیاد پر MetBMI کا اندازہ لگاتا ہے، جن میں سے بہت سے اجزا خوراک کے ہضم کے دوران آنتوں کے بیکٹیریا کی سرگرمی سے پیدا ہوتے ہیں۔

بعد ازاں اس ماڈل کو 466 افراد پر مشتمل ایک الگ گروپ پر آزمایا گیا، جہاں اس نے روایتی BMI کے مقابلے میں ذیابیطس، فیٹی لیور اور میٹابولک سنڈروم کی پیش گوئی میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن افراد کا MetBMI ان کے وزن کے مقابلے میں توقع سے زیادہ تھا، اُن میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 2اعشاریہ6 گنا زیادہ اور میٹابولک سنڈروم کا خطرہ پانچ گنا تک بڑھا ہوا پایا گیا۔

مطالعے میں MetBMI اور آنتوں کے بیکٹیریا کی تنوع کے درمیان بھی گہرا تعلق سامنے آیا۔ بلند MetBMI کا تعلق مائیکرو بایوم کی کم تنوع اور فائبر توڑنے والے بیکٹیریا کی کمی سے پایا گیا۔

محقق فریڈرک باک ہیڈ کے مطابق یہ دریافت ایسی غذائی اور طرزِ زندگی کی مداخلتوں کی راہ ہموار کرتی ہے جو وزن میں نمایاں تبدیلی کے بغیر بھی میٹابولک صحت بہتر بنا سکتی ہیں۔

محققین کا نتیجہ ہے کہ اگرچہ اس نئے اشاریے کو طبی سطح پر اپنانے سے قبل مزید تحقیق درکار ہے، تاہم مستقبل میں یہ صحت کے خطرات کی زیادہ درست تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جو بظاہر نارمل وزن رکھتے ہیں مگر اندرونی طور پر زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں