سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور فلو کے کیسز میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ قوتِ مدافعت بڑھانے کے فوری طریقے تلاش کرتے ہیں۔ تاہم ماہرینِ صحت کے مطابق صرف سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے سادہ اور سوچ سمجھ کر کی گئی غذائی تبدیلیاں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
طبی ویب سائٹ Verywell Health کی ایک رپورٹ کے مطابق روزمرہ کی بعض غذائی عادات سردیوں کے مہینوں میں مدافعتی نظام کو مضبوط، نیند کو بہتر اور مجموعی صحت کو فروغ دے سکتی ہیں۔
وٹامن ڈی
قوتِ مدافعت کے لیے صرف وٹامن سی ہی اہم نہیں، بلکہ وٹامن ڈی بھی انفیکشن سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور بعض خودکار مدافعتی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
کلیولینڈ کلینک کے ماہر ڈاکٹر میتھیو پیجٹ کے مطابق جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہو، وہ سپلیمنٹس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ وٹامن چکنائی والی مچھلی، انڈے، پنیر اور فورٹیفائیڈ غذاؤں جیسے ناشتے کے سیریلز سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مونگ پھلی کا مکھن (پینٹ بٹر)
مونگ پھلی کا مکھن خریدتے وقت اس کے اجزا کی تعداد پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے نہ کہ اس کے آرگینک ہونے پر۔کم اجزا والا مکھن غذائیت کے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اضافی چینی یا نمک والے مکھن سے پرہیز کیا جائے، خاص طور پر وہ افراد جو بلڈ پریشر یا شوگر پر نظر رکھتے ہیں۔ خالص مونگ پھلی سے بنا قدرتی مکھن زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے، اگرچہ اسے ہلانا یا فریج میں رکھنا پڑ سکتا ہے۔
ہلدی اور میگنیشیم
میگنیشیم عموماً نیند بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ہلدی میں موجود جزو کرکیومن سوزش کم کرنے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق دونوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے سے دل کی صحت سمیت اضافی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔تاہم رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ ان سپلیمنٹس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے، کیونکہ یہ بعض ادویات کے ساتھ ردِعمل پیدا کر سکتے ہیں یا زیادہ مقدار میں معدے کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
آئرن غذا سے حاصل کریں
کچھ افراد آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور سپلیمنٹس کے مضر اثرات برداشت نہیں کر پاتے۔ ایسے میں غذاؤں سے آئرن حاصل کرنا بہتر انتخاب ہے۔آئرن سے بھرپور غذاؤں میں کلیجی، سیپ، دالیں، سویابین، کدو کے بیج اور پالک شامل ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ آئرن والی غذاؤں کو وٹامن سی کے ساتھ کھایا جائے تاکہ جذب بہتر ہو، اور انہیں کیلشیم کے ساتھ ایک ہی وقت میں نہ لیا جائے۔
سیاہ تل
اگرچہ سیاہ تل سفید تل جتنا عام نہیں، مگر یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور بعض معدنیات کی زیادہ مقدار رکھتا ہے۔ محدود تحقیقات کے مطابق اس کے استعمال سے دل اور ہڈیوں کی صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سیاہ تل کی تھوڑی مقدار دہی، دلیے یا سلاد میں شامل کر کے بغیر کسی بڑی تبدیلی کے اضافی غذائی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے کسی پیچیدہ منصوبے کی ضرورت نہیں، بلکہ متوازن، متنوع اور باخبر غذائی انتخاب ہی اصل بنیاد ہے، جبکہ سپلیمنٹس کے استعمال سے قبل ماہرین سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
-
وزن اور صحت کے لیے ہلکی غذائیت والی سبزیوں کا انتخاب کیسے کریں؟
جب کاربوہائیڈریٹس کی بات کی جاتی ہے تو عموماً ذہن میں روٹی، چاول یا پاستا آتے ہیں، ...
مشرق وسطی -
مشہور ترین مسکن دوا کے بارے میں شکوک و شبہات کیوں بڑھ رہے ہیں؟
ایسیٹامینوفین جسے پیراسیٹامول بھی کہا جاتا ہے، درد کم کرنے اور بخار اتارنے کے لیے ...
مشرق وسطی -
سردیوں میں کیل مہاسے کیوں زیادہ ہو جاتے ہیں؟ اور ان سے کیسے بچا جائے؟
کیا آپ نے سردی بڑھنے کے ساتھ جلد پر کیل مہاسوں کی علامات میں اضافہ محسوس کیا ہے؟ ...
ایڈیٹر کی پسند