ایران میں ملک گیر احتجاجات کے بعد انٹرنیٹ کی بندش کو کئی دن گزر جانے پر ایک ایرانی سفارتی اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ حکام ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کے عمل میں ہیں۔
خبر رساں ادارے "ٹاس" سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع نے آج پیر کے روز واضح کیا کہ "معاملہ صرف تمام شعبوں میں قومی انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر عائد پابندیاں ختم کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ 19 جنوری سے بین الاقوامی انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں بھی بتدریج ختم کی جا رہی ہیں"۔
انہوں نے مزید بتایا کہ "ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے متعلقہ حکام کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں انٹرنیٹ مارکیٹ کی بحالی اور شہریوں کی بین الاقوامی نیٹ ورک تک رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس پر اس وقت عمل درآمد جاری ہے"۔
دوسری جانب، 'نیٹ بلاکس' (NetBlocks) نامی پلیٹ فارم نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش مسلسل 18 ویں دن بھی جاری ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس کی نگرانی کرنے والے اس ادارے نے اشارہ دیا کہ ایرانی حکام اب بھی انٹرنیٹ نیٹ ورک پر سخت سنسر شپ برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
خبر رساں ادارے "فارس" کے مطابق ایرانی حکام نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ مواصلات پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں ایس ایم ایس (SMS) بھیجنے کی سہولت بحال ہوگی، پھر مقامی میسجنگ ایپس جیسے کہ 'ایتا' اور 'سروش' کے ساتھ قومی انٹرنیٹ مکمل فعال کیا جائے گا، جبکہ تیسرے مرحلے میں ملک کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے دوبارہ جوڑا جائے گا۔
⚠️ Update: #Iran's internet blackout continues through its 18th day, obscuring the extent of a deadly crackdown on civilians.
— NetBlocks (@netblocks) January 26, 2026
Meanwhile, gaps in the filternet are being tightened to limit circumvention while whitelisted regime accounts promote the Islamic Republic's narrative. pic.twitter.com/Jj76EGrkJz
ایرانی حکام نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ بیرونی سائبر حملوں اور "تخریب کارانہ" سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ حکام کا مقصد مظاہرین کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے معاشی شکایات کے باعث احتجاجی لہر شروع ہوئی تھی، جس کا آغاز تہران کے 'بازارِ بزرگ' کی بندش سے ہوا، لیکن بعد میں یہ احتجاج حکام کے خلاف تنقید میں بدل گیا۔
-
ہمارے خلاف کسی بھی حملے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا: ایران کا پھر انتباہ
تہران کا واشنگٹن اور اسرائیل کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت پر تباہ کن جواب دینے کا ...
بين الاقوامى -
ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی پر غیر یقینی، اسرائیلی ایئرلائنز کی بلامعاوضہ منسوخی کی اجازت
اسرائیلی ایئرلائنز العال، اسرائیر اور ارکیا نے پیر کو کہا ہے کہ وہ خطے میں "غیر ...
مشرق وسطی -
احتجاج پر اکسانے والوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی: سربراہ ایرانی عدلیہ
جرم ثابت ہو جانے پر سخت ترین سزاؤں کا امکان
مشرق وسطی