فسادیوں کے رہنماؤں کی نشاندہی کر لی، کئی کو گرفتار بھی کرلیا: لاریجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ایک مرتبہ پھر دسمبر کے آخر سے ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران صورتحال کو بگاڑنے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

لاریجانی نے یہ بھی کہا ہے کہ فسادیوں کے رہنماؤں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان میں سے کئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ کچھ زیر حراست افراد اور مظاہرین کو بیرونی عناصر نے دھوکہ دیا تھا۔

نیم دہشت گرد گروپ تشکیل

لاریجانی نے پیر کو اپنے بیانات میں کہا کہ فسادیوں نے شہروں میں نیم دہشت گرد گروپ تشکیل دیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صہیونیوں نے 3 سے 4 ماہ قبل ہی یہ بیان دیا تھا کہ وہ ایران میں اپنے بنائے ہوئے ڈھانچے کو ایک نئے منظر نامے کے لیے استعمال کریں گے۔

مزید برآں انہوں نے وضاحت کی کہ سکیورٹی فورسز نے کئی معاملات میں مظاہروں کے مقامات پر G3 رائفلز اور کولٹ ٹائپ پستول جیسے ہتھیاروں کی منتقلی کا سراغ لگایا ہے۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو صرف نعرے لگانے کے لیے گھروں سے نکلے ہوں، بلکہ یہ منظم لوگ ہیں۔ 28 دسمبر کو ایران میں احتجاج شروع ہونے اور ہفتوں تک جاری رہنے کے بعد سے متعدد ایرانی حکام نے اسرائیل پر صورتحال کو ہوا دینے اور افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

لاریجانی نے ان لوگوں کے بارے میں بھی بات کی جنہیں انہوں نے فسادی قرار دیا اور جو مظاہرین کے صفوں میں گھس آئے تھے۔ ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے دو ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا تھا کہ وہ فسادیوں کو اکسا کر ان کے ملک میں افراتفری اور بے امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا ایرانی وزارت داخلہ نے 21 جنوری کو اعلان کیا کہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,117 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ باقیوں کو مزید تفصیلات کے بغیر دہشت گرد یا فسادی قرار دیا گیا۔ تاہم بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اعداد و شمار پر شک ظاہر کرتے ہوئے تقریباً 6000 ہلاکتوں کی بات کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں