غزہ میں 20 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج کے منتظر، رفح کراسنگ کی بندش سے انسانی جانوں کو خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی مسلسل بندش مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اس وقت تقریباً 20 ہزار مریض ایسے ہیں جن کے میڈیکل ریفرل مکمل ہیں اور وہ بیرونِ ملک علاج کے لیے سفر کی اجازت کے منتظر ہیں۔

وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان میں 440 کیسز ایسے ہیں جو جان بچانے کی انتہائی ہنگامی حالت میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ سفر کی اجازت کے انتظار میں اب تک 1268 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کینسر کے مریض سب سے زیادہ متاثرہ طبقات میں شامل ہیں کیونکہ ادویات اور خصوصی طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔

وزارت صحت کے مطابق فوری انتظار کی فہرست میں تقریباً چار ہزار کینسر کے مریض شامل ہیں، اس کے علاوہ 4500 بچے بھی ایسے ہیں جن کے میڈیکل ریفرل موجود ہیں، تاہم مئی 2024ء میں کراسنگ بند ہونے کے بعد سے اب تک صرف 3100 مریض ہی غزہ سے باہر جا سکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے گذشتہ اتوار کو اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر صرف افراد کی آمدورفت کے لیے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے، تاہم یہ عمل مکمل اسرائیلی نگرانی کے تحت ہوگا۔ یہ بات اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ منصوبہ بندی کے تناظر میں کیا گیا ہے اور رفح کراسنگ کھولنے کو تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور ہلاک شدگان کی لاشوں کے مقامات کی نشاندہی سے مشروط کیا گیا ہے۔

یہ اعلان اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو اسی وقت ہوا جب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو ہلاک ہونے والے فوجی ران گویلی کی باقیات غزہ سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس طرح معاہدے کے پہلے مرحلے میں تمام اسرائیلی زیرِ حراست افراد، خواہ زندہ ہوں یا ان کی باقیات، واپس لے لی گئی ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی سے طے پایا تھا اور اکتوبر سنہ 2025ء میں نافذ العمل ہوا۔

اس سے قبل غزہ کے انتظام سے متعلق قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ جلد کھول دی جائے گی، تاکہ غزہ میں آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کے شہریوں کے لیے دنیا سے رابطے کا واحد زمینی راستہ ہے، مگر مئی سنہ 2024ء میں اسرائیل کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے یہ شہریوں کے لیے بند ہے، حالانکہ جنگ بندی سے متعلق متعدد معاہدے طے پا چکے ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اکتوبر سنہ 2025ء سے جاری ہے، جس کے پہلے مرحلے میں قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کا تبادلہ، انسانی امداد کی فراہمی اور بعض علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مکمل انخلا اور عبوری انتظامیہ کے تحت تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنے کی شق شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں