کرملن کا بشار الاسد کی حوالگی کے حوالے سے مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار

پیسکوف کے مطابق "نظام کی تبدیلی کے بعد شام کے ساتھ تعلقات مؤثر طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شام کی نئی انتظامیہ سابق صدر بشار الاسد کی حوالگی کے حوالے سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

پیسکوف نے کہا "ہم بشار الاسد کے موضوع پر کسی بھی حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کر رہے"۔

شامی صدر احمد الشرع آج ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کریں گے تاکہ علاقائی مسائل اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ دورے کے آغاز سے قبل کرملن نے اس بات کی تصدیق کی کہ "نظام کی تبدیلی کے بعد شام کے ساتھ تعلقات مؤثر طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں"۔

واضح رہے کہ شامی صدر کا ماسکو کا یہ پہلا دورہ نہیں ہے، اس سے قبل وہ 15 اکتوبر 2025 کو بھی وہاں گئے تھے اور کرملن پیلس میں روسی صدر سے ملاقات کی تھی۔

بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے، صدر الشرع کی قیادت میں دمشق نے ماسکو کے حوالے سے صالحانہ لہجہ اختیار کر رکھا ہے۔ اسد کے زوال کے چند ہفتوں بعد روس نے اپنے حکام کو دمشق بھیجا تھا۔ جس کے بعد گذشتہ اکتوبر میں الشرع نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں صدر پوتین نے ان کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا۔

روس شام میں طرطوس میں اپنے بحری اور حمیمیم میں فضائی اڈے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو سابق سوویت یونین کی حدود سے باہر اس کے واحد فوجی ٹھکانے ہیں۔

الشرع کے دوسرے دورے سے قبل روسی وزارت خارجہ نے شمالی اور مشرقی شام کی صورت حال اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی افی) کے ساتھ محاذ آرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے شام کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی توثیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں